قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٢٤ ٢٤


٢٥ ٢٥

ﭿ
٢٦ ٢٦


٢٧ ٢٧


٢٨ ٢٨

٢٩ ٢٩

٣٠ ٣٠



ﯿ ٣١ ٣١
112
سورۃ المائدہ آیات 0 - 24

قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّا لَن نَّدۡخُلَهَآ أَبَدٗا مَّا دَامُواْ فِيهَا

بنی اسرائیل کی عہد شکنی اور قول وقرار کو توڑ دینے پر یہ قصہ بالکل واضح دلیل ہے ۔جبکہ اسی عہد وپیمان کو پورا کرنے کے مطالبہ پر اس سورت کی بنیاد ہے اور اسی حکم کے ساتھ اس کا آغاز کیا گیا ہے۔نیز اللہ نے اسی سورت میں صاف صاف بیان کیا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے بھی عہد وپیمان لے رکھا تھا ،وہ فرمان ہے : ( ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ) (سورۂ مائدہ: ۱۲) اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد وپیمان لیا تھا۔ (البقاعی: ۲؍ ۴۲۸)
سوال: اس قصہ کا سورۂ مائدہ کی شروعات سے کیا تعلق ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 24

قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّا لَن نَّدۡخُلَهَآ أَبَدٗا مَّا دَامُواْ فِيهَا فَٱذۡهَبۡ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَٰتِلَآ إِنَّا هَٰهُنَا قَٰعِدُونَ ٢٤

(فَٱذۡهَبۡ أَنتَ وَرَبُّكَ) تم خود چلے جاؤ اور تمہارے ساتھ تمہارا رب بھی چلا جائے۔ یہ یہود کی جانب سے انتہا درجہ کی نافرمانی اورہٹ دھرمی تھی اور بے ادبی وگستاخی کی ایسی عبارت تھی جو اللہ اور اس کے رسول کی اہانت اور انکار (کفر) کا مفہوم ومعنی رکھتی تھی ۔ نیز (غور کیجیے کہ)ان یہود کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کیا مقابلہ!جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے تسلیم ورضا کے ساتھ کہا تھا : “لَسْنَا نَقُوْلُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُوْاِسْرَائِیْلَ لِمُوْسٰی وَلٰكِنْ نَقُوْلُ لَكَ: اِذْھَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا اِنَّا مَعَكُمَا مُقَاتِلُوْنَ”۔ہم آ پ سے ویسی بات نہیں کہیں گے جیسی بنواسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی بلکہ ہم تو آپ سے یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب چلیں اور دشمنوں سے بھڑ جائیں ،ہم آپ کے شانہ بشانہ لڑیں گے اور جان کی بازی لگادیں گے ۔ (ابن جزی: ۱؍ ۲۳۱)
سوال: آیت کی روشنی میں وضاحت کیجیے کہ آزمائش وامتحان کے وقت لوگوں کے یہاں ایمانی درجات کا معیار کیا ہوتا ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 24

قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّا لَن نَّدۡخُلَهَآ أَبَدٗا مَّا دَامُواْ فِيهَا فَٱذۡهَبۡ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَٰتِلَآ إِنَّا هَٰهُنَا قَٰعِدُونَ ٢٤

(إِنَّا هَٰهُنَا قَٰعِدُونَ) ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔ یعنی: ہم تمہارے اور تمہارے رب کے ساتھ نہیں جائیں گے ۔ان کا یہ رویہ بالکل ایسا تھا جیسے کوئی شخص ایمان کا صرف دعویٰ کرکے سعادت وکامرانی کا خواہشمند ہوتا ہے حالانکہ اس کے دعوئ ایمان کی سچائی ثابت نہ ہو سکی کہ اس نے کسی امتحان سے گذر کر کوئی ایسا کارنامہ انجام دیا ہو جس سے اس کے یقین کا پتہ چلے ۔ (البقاعی: ۲؍ ۴۲۷)
سوال: اگر امتحان اور آزمائش نہ ہوتی تو سارے لوگ ایمان والے ہوتے ۔آیت کی روشنی میں اس بات کی وضاحت کیجیے.

سورۃ المائدہ آیات 0 - 26

قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡۛ أَرۡبَعِينَ سَنَةٗۛ يَتِيهُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ

اس چالیس سالہ مدت کی تعیین میں مصلحت غالباً یہ تھی کہ ان لوگوں کی اکثریت کی موت ہوجائے جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے مذکورہ بات کہی تھی ۔یہ بات ایسے مزاج اور دلوں کی پیداوار تھی جو صبر وثبات یعنی مشکلات کو جھیلنے کے حوصلے اور ہر حال میں حق پر جمے رہنے کے جذبہ سے محروم ہوچکے تھے بلکہ ان کے دل ودماغ دشمنوں کی غلامی سے مانوس تھے ،ان پر غلامانہ ذہنیت کی چھاپ پڑ چکی تھی ۔نتیجہ میں ان کے اندر ترقی اور بلندی کی طرف بڑھنے کی صلاحیت وہمت نہ رہی ،بزدلی اور کمزوری نے انہیں نکما بنادیا تھا ۔لہذا چالیس سالہ مدت کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ غلامی ومحکومی میں دبی کچلی ناکارہ نسل گزر جائے اور تازہ دم نئی نسل وجود پاجائے جس کے عقل وذہن کی پرورش اس طرح ہوئی ہوکہ ان کے اندر دشمنوں پر غلبہ پانے اور انہیں زیر کرنے کا ولولہ اور حوصلہ ہو۔یہ نئی نسل غلامانہ ذہنیت کے اثرات سے محفوظ ہو اور سعادت وکامرانی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی ذلت کو قبول کرنے سے پاک ہو۔ (السعدی: ۲۲۸)
سوال: بنی اسرائیل کے بھٹکنے اور سرگرداں پھرنے کے لئے چالیس سالوں کی مدت میں کیا مصلحت تھی؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 26

قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡۛ أَرۡبَعِينَ سَنَةٗۛ يَتِيهُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ

ان کے لئے یہ دنیوی سزا تھی ۔ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس سزا کو ان کے لئے کفارہ بنادیا ہو ۔ اور اس سزا کے ذریعہ اس سے بڑی دوسری سزاکو ان سے ہٹادیا ہو ۔
آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ گناہ کی سزا کبھی اس شکل میں دی جاتی ہے کہ جو نعمت میسر ہے وہ چھین لی جائے یا کوئی ملنے والی نعمت روک دی جائے جبکہ اس نعمت کے ملنے کا سبب موجود ہو۔
یا سزا کی ایک شکل یہ ہے کہ نعمت کو کسی دوسرے وقت تک کے لئے ٹال دیا جائے۔ (السعدی: ۲۲۸)
سوال: گناہ کی سزا مختلف شکلوں اور قسموں میں واقع ہوتی ہے ۔ان شکلوں کو ذکر کیجیے.

سورۃ المائدہ آیات 28 - 29

لَئِنۢ بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقۡتُلَنِي مَآ أَنَا۠ بِبَاسِطٖ يَدِيَ إِلَيۡكَ لِأَقۡتُلَكَۖ إِنِّيٓ أَخَافُ ٱللَّهَ رَبَّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٢٨ إِنِّيٓ أُرِيدُ أَن تَبُوٓأَ بِإِثۡمِي وَإِثۡمِكَ فَتَكُونَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلنَّارِۚ وَذَٰلِكَ جَزَٰٓؤُاْ ٱلظَّٰلِمِينَ ٢٩

(إِنِّيٓ أُرِيدُ أَن تَبُوٓأَ) یعنی:میں چاہتا ہوں کہ تولَوٹے۔ (بِإِثۡمِي وَإِثۡمِكَ) میرے گناہ کے ساتھ اور خود اپنے گناہ کے ساتھ بھی۔
یعنی: جب دوباتوں کے سوا کوئی چارہ نہیں اور گھوم پھر کر دوہی راستے رہ گئے کہ یا تو میں تمہارا قاتل بن جاؤں یا پھر تم مجھے قتل کردو۔توپھر میں یہی راستہ پسند کروں گاکہ تو مجھے قتل کردے (میں قاتل وظالم نہ بنوں) تاکہ تو گناہ کے دوہرے بوجھ کو سمیٹ لے ۔ (فَتَكُونَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلنَّارِۚ وَذَٰلِكَ جَزَٰٓؤُاْ ٱلظَّٰلِمِينَ) اور پھر تو دوزخیوں میں سے ہو جاکہ ظلم کرنے والوں کا یہی بدلہ ہے ۔
یہ ارشاد اس بات کی دلیل ہے کہ قتل کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے اور جہنم میں داخلہ کو واجب کرتا ہے۔ (السعدی: ۲۲۹)
سوال: قتل کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ اورقتل اپنے انجام دینے والے پر کیا واجب کرتا ہے اوراسے کس انجام کو پہنچاتا ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 30

فَطَوَّعَتۡ لَهُۥ نَفۡسُهُۥ قَتۡلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُۥ فَأَصۡبَحَ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٣٠

(فَطَوَّعَتۡ لَهُۥ نَفۡسُهُۥ قَتۡلَ أَخِيهِ) پھر ایسا ہوا کہ اس (قابیل) کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل کو خوشنما بنادیا ۔
یعنی ایک بھائی(قابیل )کے نفس نےاپنے بھائی کے قتل کا معاملہ اس کی نگاہ میں ہلکا اورمعمولی بنادیا اور اس (سنگین جرم) کو کرگزرنے پر اس کی ہمت بڑھادی۔ نیز اس کے نفس نے بھائی کے قتل کی ایسی صورت بناکر دکھائی کہ یہ اس کو ہمواراور آسان کام نظر آنے لگا ۔ ( القرطبی: ۷؍۴۱۶)
سوال: کیا گناہ کو ہلکا اور آسان بنانے میں نفس کا بھی عمل دخل ہوتا ہے؟