قرآن
ﮐ
ﰽ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ
ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ١٤١ ١٤١ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ﮊ ١٤٢ ١٤٢ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ١٤٣ ١٤٣ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ١٤٤ ١٤٤ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
١٤٥ ١٤٥ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ١٤٦ ١٤٦ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ
ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ١٤٧ ١٤٧
فَإِن كَانَ لَكُمۡ فَتۡحٞ مِّنَ ٱللَّهِ قَالُوٓاْ أَلَمۡ نَكُن مَّعَكُمۡ وَإِن كَانَ لِلۡكَٰفِرِينَ نَصِيبٞ
(وَإِن كَانَ لِلۡكَٰفِرِينَ نَصِيبٌ ) اور اگر کافروں کو تھوڑا سا غلبہ مل جائے۔
کافروں کا پلہ بھاری ہونے کو(نَصِيْبٌ) کہا (فَتۡحٌ) نہیں کہا؛اس لئے کہ کافروں کو ایسی فتح نصیب نہیں ہوسکتی جو ان کی دائمی نصرت کی بنیاد بنے ۔بلکہ زیادہ سے زیادہ جو چیز ہوسکتی ہے وہ یہ کہ انہیں وقتی غلبہ مل جائے ۔ (السعدی:۲۱۰)
سوال: مومنوں کے غلبہ کو فتح اور کافروں کے غلبہ کو (نَصِيْبٌ) کیوں کہا گیا؟
إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَهُوَ خَٰدِعُهُمۡ وَإِذَا قَامُوٓاْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ قَامُواْ كُسَالَىٰ يُرَآءُونَ ٱلنَّاسَ وَلَا يَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ إِلَّا قَلِيلٗا ١٤٢
منافقین کی یہ بری صفات اپنی تنبیہ اور آگاہی دینے کے ساتھ اس بات کی دلیل ہیں کہ مومنین ان صفات کی ضد اور مخالف صفات سے آراستہ ہوتے ہیں، جیسے: ظاہر وباطن میں سچائی اور اخلاص اسی طرح مومنوں کے پاس جو کچھ ہے وہ نامعلوم نہیں بلکہ کھلی کتاب ہے ۔ وہ اپنی نمازوں اور عبادتوں کو دلچسپی اور چستی سے انجام دیتے ہیں،نیز اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے اور خوب کرتے ہیں ۔ اور یہ بات بھی واضح ہے کہ اللہ نے ان مومنوں کو صراطِ مستقیم پر قائم رہنے کی توفیق عنایت فرمائی ہے۔ اب عقلمند آدمی کو چاہئے کہ دونوں کردار سامنے رکھے اور دونوں میں جو بہتر ہواس کو اختیار کرلے۔ واللہ المستعان۔ (السعدی: ۲۱۱)
سوال: ان آیات سے آپ کس طرح مومنین کی صفات نکالیں گے؟
إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَهُوَ خَٰدِعُهُمۡ وَإِذَا قَامُوٓاْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ قَامُواْ كُسَالَىٰ يُرَآءُونَ ٱلنَّاسَ
یعنی: نماز کے لئے اٹھتے ہیں توبوجھل طبیعت کے ساتھ ،دھیمے دھیمے،پیچھے پیچھے ،نڈھال ہوکر چلتے ہیں ۔نماز کے لئے ان کے اندر نہ کوئی سرگرمی اور پھرتی ہوتی ہے اور نہ کوئی دلچسپی وشوق۔اس آدمی کی طرح جس پر کام کرنے کے لئے زورزبردستی کی گئی ہو ،ان کے اس رویہ کی وجہ یہ ہے کہ وہ نمازکے ثواب کا یقین رکھتے ہیں اور نہ اسے چھوڑنے پر سزا کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ (الألوسی: ۵؍۱۷۵)
سوال: منافقین نماز میں کیوں کاہلی وسستی برتتے ہیں؟
وَلَا يَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ إِلَّا قَلِيلٗا ١٤٢
اس لئے کہ منافقین اللہ کا ذکر صرف زبان سے کرتے ہیں اور اسی وقت کرتے ہیں جب لوگوں کے درمیان موجود ہو ں ۔اس طرح ان کی حالت سچے مومنوں کے برخلاف ہوتی ہے کیونکہ اہلِ ایمان کا معاملہ تو یہ ہوتا ہے کہ جب وہ نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو شوق اور خوف کے دوپروں کے بل اڑتے چلے جاتے ہیں اور نماز کے اوقات کے انتظار میں ان کا دل لگا رہتا ہے ۔ (الألوسی:۵؍۱۸۱)
سوال:منافقین اللہ کاذ کر بہت کم کیوں کرتے ہیں؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجۡعَلُواْ لِلَّهِ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطَٰنٗا مُّبِينًا ١٤٤
یعنی:عذاب کی کھلی دلیل !!اس آیت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضہ ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا ہے جب تک اس کے خلاف حجت پوری نہ ہوجائے۔ قرآن کی بہت سی آیات اس حقیقت کا احساس دلاتی ہیں۔
آیت کے معنی میں دوسری بات یہ بھی کہی گئی ہے کہ : کیا تم اپنے اس عمل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس بات کی کھلی اور صاف دلیل دینا چاہتے ہو کہ تم منافق ہو کیونکہ کافروں سے دوستی رکھنا اور ربط وضبط قائم کرنا نفاق کی سب سے واضح دلیل ہے۔ (الألوسی: ۵؍۱۷۷)
سوال: آیتِ کریمہ اللہ تعالیٰ کے عدل وانصاف پر دلالت کرتی ہے ۔اس کی وضاحت کیجئے.
إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ فِي ٱلدَّرۡكِ ٱلۡأَسۡفَلِ مِنَ ٱلنَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمۡ نَصِيرًا ١٤٥
کیونکہ یہ جہنم کے تمام طبقات ودرجات میں سب سے زیادہ پوشیدہ ،انتہائی مخفی اور چھپا ہوا ،نہایت گہرا و پست اور بدترین درجہ ہے ۔ جیسے ان منافقین کا کفر بھی انتہائی پوشیدہ اور بدترین ہے ۔ یہ طبقہ جہنم کا سب سے بدترین طبقہ بھی ہے جیسے ان منافقین کا کفر ، کفر کی سب سے خراب اوربدترین شکل ہے۔ (البقاعی: ۲؍ ۳۴۰)
سوال: منافقین جہنم کے سب سے نچلے درجہ اور طبقہ میں کیوں ہونگے؟
مَّا يَفۡعَلُ ٱللَّهُ بِعَذَابِكُمۡ إِن شَكَرۡتُمۡ وَءَامَنتُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمٗا ١٤٧
شُکر کو ایمان سے پہلے رکھا گیا ہے اس لئے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ کر غور کرتا ہے نتیجہ میں اس کا شکر بجالاتا ہے اور پھر نعمتوں کو دینے والے پر ایمان لاتا ہے ۔اس طرح شُکر اور نعمت کی قدردانی ایمان کا سبب اور ذریعہ ہے اور اس پراوّلیت رکھتا ہے ۔ (ابن جزی: ۱؍ ۲۱۶)
سوال: اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان: (إِن شَكَرۡتُمۡ وَءَامَنتُمۡۚ) میں شکر کو ایمان سے پہلے کیوں ذکر کیا ہے؟