قرآن
ﮖ
ﱃ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ
ﭣ ﭤ ﭥ ٩٨ ٩٨ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
٩٩ ٩٩ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ١٠٠ ١٠٠ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
١٠١ ١٠١ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ١٠٢ ١٠٢ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ١٠٣ ١٠٣
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ١٠٤ ١٠٤ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ١٠٥ ١٠٥ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ
ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ١٠٦ ١٠٦
فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ ءَامَنَتۡ فَنَفَعَهَآ إِيمَٰنُهَآ
یعنی: ایسی کوئی قوم اور بستی نہیں گذری ہے جسے عذاب دیکھ لینے کے بعد ایمان لانے سے فائدہ ہوا ہو۔(مطلب: جب کسی ہستی یا بستی پر عذاب آگیا اور وہ اسے دیکھ کر ایمان لائے تو اس وقت کے ایمان نے انہیں کوئی فائدہ نہیں دیا۔)اس کی حکمت ظاہر ہے کیونکہ مجبوری کا ایمان سچا ایمان نہیں ہوتا کیونکہ ایسی حالت میں ایمان لانے والےسے اگر عذاب ٹل جائے اور وہ چیز جس سے مجبور ہوکر وہ ایمان لائے ہیں،ہٹالی جائے تو وہ پھر سے کفر کی طرف پلٹ جائیں گے۔ (السعدی؍۳۷۴)
سوال: جس قوم یا انسان پر عذاب آجائے،تب اس کا ایمان لانا کیوں فائدہ نہیں دیتا؟
فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ ءَامَنَتۡ فَنَفَعَهَآ إِيمَٰنُهَآ إِلَّا قَوۡمَ يُونُسَ لَمَّآ ءَامَنُواْ كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ ٱلۡخِزۡيِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنَٰهُمۡ إِلَىٰ حِينٖ ٩٨
(یونس علیہ السلام کی قوم کا معاملہ دوسری قوموں سے الگ ہوا کہ صرف یہی قوم ایسی گزری ہے کہ عذاب کے قریب آجانے کے بعد ایمان لانے اور توبہ کرنے نے انہیں فائدہ دیا۔)شایداس کی حکمت یہ ہے کہ یونس علیہ السلام کی قوم کے علاوہ دوسری قومیں جنہیں عذاب کے ذریعہ ہلاک کردیاگیا، عذاب ٹال کراگر انہیں بچالیا جاتا تو وہ پھر سے انہی کاموں کی طرف پلٹ جاتے جن سے ان کو منع کیا گیا تھا(اور جن کے کرنے کی وجہ سے عذاب آیا تھا۔)رہا یونس علیہ السلام کی قوم کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ اپنے ایمان پر قائم رہیں گے اور ہوا بھی یہی۔ عذاب ٹل جانے کے بعد یونس علیہ السلام کی قوم کا ایمان عملی طور سے جاری رہااور وہ اس پر جمے رہے۔ (السعدی؍۳۷۴)
سوال: یونس علیہ السلام کی قوم کو یہ خصوصیت دی گئی کہ عذاب آجانے کے بعد بھی ان کے ایمان لانے نے انہیں فائدہ دیا۔اس کی کیا حکمت ہے؟
وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَأٓمَنَ مَن فِي ٱلۡأَرۡضِ كُلُّهُمۡ جَمِيعًاۚ أَفَأَنتَ تُكۡرِهُ ٱلنَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُواْ مُؤۡمِنِينَ ٩٩
یہ نبی ﷺکے لئے تسلی اور دلاسہ ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ کی پوری خواہش تھی کہ سب لوگ ایمان لے آئیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ ایمان تو صرف وہی لائیگا جس کے حق میں اللہ کی طرف سے پہلے ہی سعادت لکھی جاچکی ہے او ر گمراہی میں وہی لوگ پڑے رہیں گے جن کے لئے اللہ کی طرف سے شقاوت یعنی بدنصیبی لکھی جاچکی ہے۔(البغوی: ۲؍۳۸۱)
سوال: ہمارے نبی ﷺ امت کے حق میں کس درجہ شفیق اور مہربان تھے؟
فَهَلۡ يَنتَظِرُونَ إِلَّا مِثۡلَ أَيَّامِ ٱلَّذِينَ خَلَوۡاْ مِن قَبۡلِهِمۡۚ
یعنی: کیا یہ لوگ جو اللہ کی آیتوں اور نشانیوں کے واضح ہوجانے کے بعد بھی ایمان نہیں لارہے ہیں وہ صرف (مثل أيام الذين خلوا من قبلهم)اپنے سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے برے دنوں کی طرح دن کا انتظار کررہے ہیں!یعنی: ہلاکت اور عذاب کا۔اس لئے کہ ان کی حرکتیں ان عذاب پانے والی قوموں کی طرح ہیں جبکہ اللہ کی سنت پہلےکے لوگوں میں اور بعد کے لوگوں میں ایک ہی طرح سے جاری ہے۔(یعنی اللہ کا جو دستور پہلے لوگوں کے لئے تھا وہی بعد والوں کے لئے بھی ہے۔ )(السعدی؍۳۷۴)
سوال: جو لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے،ان کے بارے میں اللہ کی سنت اور قانون کو آیت کی روشنی میں واضح کیجئے.
ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۚ كَذَٰلِكَ حَقًّا عَلَيۡنَا نُنجِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٠٣
(آیت میں جو کہا گیا ہے کہ ہم پر ضروری ہے یا ہمارے ذمہ ہے، تو)یہ حق اور ذمہ اللہ سبحانہ نے اپنے احسان،فضل وکرم اور وعدے کے ذریعہ خود اپنی ذات پر متعین اور واجب کرلیاہے۔ایسا نہیں ہے کہ بندوں نے اللہ پر یہ حق ٹھہرایا ہو جیسے کوئی آدمی کسی ایسے آدمی پر ٹھہراتاہے جس پر اس کا کوئی احسان یا دباؤ ہوتا ہے۔)یعنی جس طرح بندوں کا ایک دوسرے پر حق متعین اور واجب ہوتا ہے اس طرح اللہ پر کسی بندے یا مخلوق کا کوئی حق لازم نہیں ہوتا۔( (ابن تیمیہ: ۳؍۵۰۱)
سوال: اس بات کا کیا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ پر کچھ حق لازم ہوتا ہے؟
ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۚ كَذَٰلِكَ حَقًّا عَلَيۡنَا نُنجِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٠٣
ہماری سنت (دستور) میں یہ بات شامل ہے کہ جب ہم کسی قوم پر عذاب نازل کرتے ہیں تو ان کے بیچ سے اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو باہر نکال لیتے ہیں۔
(القرطبی: ۱۱؍۵۸)
سوال: جب جڑ سے اکھاڑ دینے والا عذاب آتا ہے تو کیا وہ ان لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتا ہے جو ایمان اور ہدایت پر ہوتے ہیں؟
وَلَا تَدۡعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَۖ فَإِن فَعَلۡتَ فَإِنَّكَ إِذٗا مِّنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٠٦
(نبی ﷺ کے بارے میں یہ فرض کرنا کہ:اگر آپ اللہ کے سوا کسی اور کو پکاریں۔جبکہ یہ بات نہیں ہوسکتی تھی۔)ایسا فرض کرنے کا مقصد لوگوں کو ڈرانا اور آگاہ کرنا ہے کہ یہ کام( یعنی غیراللہ کو پکارنا) نہایت ہی سنگین جرم ہے حتی کہ اگر مخلوقات میں سب سے زیادہ افضل ذات بھی اس کام کا ارتکاب کرلے تو وہ ظالموں میں شامل ہوجائیگی۔ (ابن عاشور: ۱۱؍۳۰۵)
سوال: جب یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ نبی ﷺاللہ کے سوا کسی اور کو پکاریں گے تو پھر آپ ﷺ کو خطاب کرکے یہ بات کہنے (کہ اگر آپ کسی کو پکاریں)کا کیا مقصد ہے؟