قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے





ﭿ


١٥٤ ١٥٤


١٥٥ ١٥٥




ﯿ ١٥٦ ١٥٦

١٥٧ ١٥٧
70
سورۃ آل عمران آیات 0 - 154

ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيۡكُم مِّنۢ بَعۡدِ ٱلۡغَمِّ أَمَنَةٗ نُّعَاسٗا يَغۡشَىٰ طَآئِفَةٗ مِّنكُمۡۖ

اس اونگھ کی بدولت وہ نئے سرے سے تازہ دم ہوگئے اور اپنا غم بھول گئے، اس لئے کہ نیند کی پہلی جھپکی کے بعد ہی غم ہلکا ہونے لگتا ہے اور پھراس سے غم کا احساس مٹ جاتاہے، جیسا کہ موت وغیرہ کے رنج وغم اور تکالیف میں دیکھاجاتا ہے کہ سخت تکلیف میں مبتلا شخص کو نیند لگ جائے تو اسے آرام وسکون مل جاتا ہے۔ (ابن عاشور:۴؍۱۳۳)
سوال:مجاہدین پر اونگھ نازل کئے جانے کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 154

وَطَآئِفَةٞ قَدۡ أَهَمَّتۡهُمۡ أَنفُسُهُمۡ

منافقین کا مقصد دین کا دفاع کرنا نہیں تھا وہ تو بس صرف اپنے آپ کو بچانا چاہتے تھے، لہذا انہیں اس کی سزا یہ ملی کہ مومنین پر نازل ہونے والامذکورہ امن و اطمینان انہیں میسر نہیں ہوا۔ (البقاعی: ۲؍۱۶۹)
سوال:منافقین ،مومنوں کی طرح بے خوف اور پر امن کیوں نہیں ہوئے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 154

قُلۡ إِنَّ ٱلۡأَمۡرَ كُلَّهُۥ لِلَّهِۗ

غلبہ اللہ کے لئے ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ یہ اللہ کے اولیاء کو ملنے والا ہے کیونکہ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بارگاہ میں مرتبہ رکھتے ہیں یا یہ کہ فیصلہ اور(ہر چیز کا ) نظام و انتظام اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اوراسی کے ساتھ خاص ہے ،اس میں دوسرا کوئی بھی اس کاشریک نہیں لہذا اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے ۔ (الألوسی: ۴؍۹۵)
سوال:اللہ تعالیٰ کے فرمان: (قُلۡ إِنَّ ٱلۡأَمۡرَ كُلَّهُۥ لِلَّهِۗ ) فرما دیجئے معاملہ کا پورا اختیار صرف اللہ کو ہے ۔سے کیا معلوم ہوتا ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 154

يَقُولُونَ لَوۡ كَانَ لَنَا مِنَ ٱلۡأَمۡرِ شَيۡءٞ مَّا قُتِلۡنَا هَٰهُنَاۗ

یہ ان منافقین کی جانب سے اللہ کی تقدیر کا انکار اور اس کے فیصلہ کو جھٹلانا اوررسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رائے کو احمقانہ اور جاہلانہ قرار دینا ہے ۔نیز اپنے آپ کو بے داغ قرار دینا اور اپنے منہ میاں مٹھو بننا ہے ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول سے ان کی تردید کی : (قُل لَّوۡ كُنتُمۡ فِي بُيُوتِكُمۡ) فرما دیجئے کہ اگر تم اپنے گھروں میں بیٹھے رہو ۔ جو قتل کئے جانے کے امکان وگمان سے بہت دور کی جگہ ہے (لَبَرَزَ ٱلَّذِينَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقَتۡلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمۡ) پھر بھی وہ لوگ ضرور اپنے ڈھیر ہونے کی جگہ یعنی قتل گاہ کی طرف نکل پڑتے جن کی قسمت میں قتل ہونا لکھ دیاگیا ہے ۔
معلوم ہوا کہ اسباب خواہ کتنے بھی بڑے ہوں یہ اسی وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاء وقدر سے ٹکراتے نہ ہوں ۔ (السعدی:۱۵۳)
سوال:اُحد کے دن منافقین کی جانب سے کہی جانے والی بات کس قدر بھیانک تھی؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 155

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَلَّوۡاْ مِنكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡتَقَى ٱلۡجَمۡعَانِ إِنَّمَا ٱسۡتَزَلَّهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ بِبَعۡضِ مَا كَسَبُواْۖ

جہاد میں ہونے والی مڈبھیڑ اور لڑائی کا دارومدار اعمال پر ہے لہٰذا جو شخص اطاعت کے کاموں میں زیادہ صبر کرنے والا ہوگا وہی کفارسے جنگ کرنے میں زیادہ مضبوط ٹھہرے گا۔ (البقاعی: ۲؍۱۷۱)
سوال:کیا جہاد اور گناہوں کو چھوڑنے کے درمیان کوئی تعلق ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 156

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَقَالُواْ لِإِخۡوَٰنِهِمۡ إِذَا ضَرَبُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَوۡ كَانُواْ غُزّٗى لَّوۡ كَانُواْ عِندَنَا مَا مَاتُواْ وَمَا قُتِلُواْ لِيَجۡعَلَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ حَسۡرَةٗ فِي قُلُوبِهِمۡۗ

اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو منع کیا ہے کہ وہ بدعقیدگی میں کفار ومنافقین کی مانند ہوجائیں، کہ کوئی شخص تجارت کے لئے یااس طرح کے دوسرے کام کے لئے سفر کرے اور جو شخص دشمن سے بھڑ جائے اور نتیجہ میں قتل ہوجائے تواس کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ اگر وہ اپنے گھر میں بیٹھا رہتاتو زندہ رہتا اورسفر یا مقابلے کے لئے نہ نکلتا تو اسے موت نہ آتی ۔ (ابن عطیہ: ۱؍۵۳۰)
سوال: غافل لوگ جب مجاہدین کے قتل یعنی شہادت کی خبر سنتے ہیں تو ان کا تقدیر پر ایمان کمزورہوجاتا ہے ۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ آل عمران آیات 0 - 157

وَلَئِن قُتِلۡتُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوۡ مُتُّمۡ لَمَغۡفِرَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَحۡمَةٌ خَيۡرٞ مِّمَّا يَجۡمَعُونَ ١٥٧

(وَلَئِن قُتِلۡتُمۡ) اور اگر تم قتل کردیے گئے ۔اللہ کی راہ میں اے مسلمانو!یعنی جہاد میں یا اپنی فطری موت مر گئے ۔جبکہ تمہاری حالت یہ رہی ہو کہ عملی طور پر، یا نیت وجذبہ کے ساتھ تم جہاد سے وابستہ اور جڑے ہوئے تھے (لَمَغۡفِرَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَحۡمَةٌ خَيۡرٞ مِّمَّا يَجۡمَعُونَ) تو اللہ کی بخشش اور رحمت ان کی جمع کردہ چیزوں سے بہتر ہے ۔یعنی کفار اپنی زندگی بھر دنیا کے جو فائدے اور لذتیں سمیٹتے ہیں ان تمام اسباب ودولت سے بہتر ہے۔اس میں مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلائی گئی ہے کہ یہ وہ چیز ہے جس میں مقابلہ آرائی کرنے والوں کو ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہئے ۔ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی راہ میں انہیں پہنچنے والے دکھ پر تسلی وتشفی دی جارہی ہے ۔اس نقصان کے بعدکہ لگتاتھا وہ انہیں اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند کرنے سے پیچھے ہٹادیگا۔ (الألوسی: ۴؍ ۱۰۴)
سوال:(اللہ کی جانب سے)انسان کے ساتھ بھلائی چاہنے کی کیا علامت ہے ؟اس بات کو آیت کے تناظر میں بیان کیجئے.