قرآن
ﮏ
ﰻ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ٣٠ ٣٠ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
ﭼ ٣١ ٣١ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ٣٢ ٣٢ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ٣٣ ٣٣ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ٣٤ ٣٤ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ٣٥ ٣٥
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ٣٦ ٣٦ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ
ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ٣٧ ٣٧
وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفۡسَهُۥۗ وَٱللَّهُ رَءُوفُۢ بِٱلۡعِبَادِ ٣٠
غرض جو شخص بھی اپنی حد سے آگے بڑھ جائے اور یہ بھول جائے کہ وہ بندہ ہے تو اللہ سبحانہ وتعالی اس سے انتقام لینے والاہے۔ (البقاعی:۲؍۶۱)
سوال:اللہ کے قول: (وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفۡسَهُ) اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے۔سے کیا رہنمائی ملتی ہے؟
وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفۡسَهُۥۗ
اللہ تعالیٰ نے ہم پر شفقت ورحمت کرتے ہوئے اپنی ذات سے ہمیں ڈرانے کی بات دہرائی ہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ لمبی مدت گذر جانے کے ساتھ ہمارے دلوں میں سختی آجائے لہٰذا ضروری تھا کہ ہمارے لئے ترغیب (رغبت وشوق دلانا) اور ترھیب (ڈر اور خوف دلانا) دونوں اکٹھا کردی جائیں تاکہ ترغیب، امید جگانے اور عمل صالح کرنے کا سبب بنے۔اور ترہیب، کا نتیجہ خوف اور گناہوں کو چھوڑدینا، ہو۔ (السعدی:ص؍۱۲۸)
سوال:اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے ہمیں ڈرانے کی بات کو دوبارہ کیوں ذکر کیا؟
قُلۡ إِن كُنتُمۡ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِي يُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ
یہ آیتِ کریمہ ہر اس شخص کا فیصلہ کرنے والی ہے جومحبتِ الٰہی کا دعویٰ تو کرتا ہو مگر وہ طریقۂ محمدیہ پر عمل پیرا نہ ہو تو پھر حقیقت میں وہ جھوٹاہے۔یہاں تک کہ وہ اپنے تمام اقوال واعمال میں شریعتِ محمدی ﷺ اور دین نبوی ﷺ کی پیروی کرنے لگے۔ (ابن کثیر:۱؍۳۳۸)
سوال:آیت کی روشنی میں اس بات کی اہمیت واضح کیجئے کہ احادیث نبویہ کے صحیح ہونے کی تحقیق کرنی چاہئے؟
قُلۡ إِن كُنتُمۡ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِي يُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٣١
یہ اس وجہ سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ چیزوں کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔چنانچہ ہر وہ چیز جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے ، رسول اللہ ﷺ اس کی طرف دعوت ضرور دیتے ہیں۔اور ہر وہ چیز جس کی طرف رسول اللہ ﷺ دعوت دیتے ہیں ، اسے اللہ تعالیٰ ضرور پسند فرماتا ہے۔ یعنی گویا رب کی پسند اور رسولﷺ کی دعوت دونوں لازم وملزوم ہوئیں۔یعنی دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ (ابن تیمیہ:۲؍۶۰)
سوال:رسول اللہ ﷺ کی اتباع ،اللہ تعالیٰ سے محبت کی علامت کیوں ہوئی؟
قُلۡ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَۖ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٣٢
آیت یہ بتاتی ہے کہ طریقے یعنی منہج ومسلک میں رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کفر ہے ۔اور جس شخص کی یہ صفت ہو، اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا اگرچہ وہ دعویٰ کرے اور اپنے آپ میں یہ سمجھے کہ وہ اللہ سے محبت کرنے والا ہے اور اس سے قربت ونزدیکی حاصل کررہا ہے۔ ہاں،اپنے دعوے میں وہ اسی وقت صحیح ہوسکتا ہے جب وہ رسول اللہ نبیِ اُمی خاتم الرسُل ﷺ کی تابعداری کرنے لگے۔(ابن کثیر:۱؍۳۳۸)
سوال:نبی ﷺ کی مخالفت میں بہت بڑا خطرہ ہے ۔اس کی وضاحت کیجئے.
وَلَيۡسَ ٱلذَّكَرُ كَٱلۡأُنثَىٰۖ وَإِنِّي سَمَّيۡتُهَا مَرۡيَمَ
یہ آیت بتاتی ہے کہ مرد کو عورت پر فضیلت دی گئی ہے ۔اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ ولادت کے وقت ہی بچے کا نام رکھا جا سکتا ہے اور یہ کہ اگر باپ راضی ہوتو ماں،بچے کا نام رکھ سکتی ہے۔ (السعدی: ۱۲۹)
سوال:آیت سے حاصل ہونے والے چند فوائد ذکر کیجئے.
كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا ٱلۡمِحۡرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزۡقٗاۖ قَالَ يَٰمَرۡيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَاۖ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ٣٧
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم کو ملنے والا رزق لگاتار ملنے والا عطیہ تھا۔نہ تویہ عطیہ محدود تھا نہ اس کے لئے کوئی تعداد مقرر تھی چنانچہ یہ ایسی روزی تھی جسے حاصل کرنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی جاتی تھی ۔اور اللہ کے دیئے ہوئے رزق کا سب سے بڑا شکر اور قدردانی،یہ جاننا اورماننا ہے کہ یہ اللہ کی جانب سے ملا ہے۔ (البقاعی:۲؍۷۵)
سوال:اللہ کی عطاکردہ روزی کا سب سے بڑا شکر کیا ہے؟