قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١٦ ١٦


ﭿ
١٧ ١٧


١٨ ١٨

١٩ ١٩



٢٠ ٢٠

٢١ ٢١

٢٢ ٢٢

ﯿ ٢٣ ٢٣
513
سورۃ الفتح آیات 0 - 17

لَّيۡسَ عَلَى ٱلۡأَعۡمَىٰ حَرَجٞ وَلَا عَلَى ٱلۡأَعۡرَجِ حَرَجٞ وَلَا عَلَى ٱلۡمَرِيضِ حَرَجٞۗ

الله تعالىٰ نے تركِ جہاد كیلئے چند اعذار بیان كیے ہیں، بعض اعذار لازمى ودائمى ہیں جیسے:اندھا پن اور لنگڑا پن ، اور بعض اعذار عارضى ہیں جیسے بعض بیماریوں كا آجانا پھر ختم ہوجانا بیمار مسلمان دائمى و لازمى مریض كے حكم میں ہے یہاں تك كہ شفایاب ہوجائے۔(ابن كثیر: 4؍193)
سوال: جب جہاد فرض ہوجائے تو کس عذر كى بنا پر جہاد ترك كیا جاسكتاہے؟آیت كى روشنى میں بیان كیجئے.

سورۃ الفتح آیات 0 - 17

وَمَن يَتَوَلَّ يُعَذِّبۡهُ عَذَابًا أَلِيمٗا ١٧

الله تعالىٰ دنیا میں ذلت ورسوائى مسلط كردےگا اور آخرت میں جہنم مقدر كردےگا۔ (ابن كثیر: 4؍193)
سوال: كیا دردناك عذاب صرف اور صرف آخرت كا حصہ ہے؟

سورۃ الفتح آیات 0 - 18

۞لَّقَدۡ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ إِذۡ يُبَايِعُونَكَ تَحۡتَ ٱلشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمۡ فَأَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ عَلَيۡهِمۡ وَأَثَٰبَهُمۡ فَتۡحٗا قَرِيبٗا ١٨

الله كے رسول ﷺ نے فرمایا: درخت كےنیچے بیعت كرنے والوں میں سے كوئى بھى جہنم میں نہیں جائےگا (فعلم ما في قلوبهم) یعنى الله تعالىٰ ان كے ایمان كى سچائى اور جہاد كیلئے ان كے عزم مصمم كى صداقت سےبخوبى واقف ہے۔ (وأثابهم فتحًا قريبًا) یعنى الله تعالىٰ نے انہیں فتح خیبر یا فتح مكہ سے نوازا۔ پہلا قول زیادہ مشہور ہے، یعنی اللہ نے یہ ثواب آخرت کے ثواب کے علاوہ بیعتِ رضوان کے عوض عطاکیا۔(ابن جزى: 2؍349)
سوال: آپ اس آیت سے اس شخص پر کیسے رد کریں گے جس کا اعتقاد ہے کہ سات صحابہ کے علاوہ دیگر تمام صحابہ کافر و مرتد ہوگئے تھے ؟

سورۃ الفتح آیات 0 - 20

وَعَدَكُمُ ٱللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةٗ تَأۡخُذُونَهَا

اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک عمدہ تدبیر اپنائی وہ یہ کہ اس نے بڑی بڑی چیزوں کو ان کے غیرظاہری اسباب­جیسا کہ لوگوں کا نظریہ ہے­ کے ذریعہ نوازا، لہٰذا مومنوں كو دشمنوں كى كثرت وقوت سے خوفزده نہیں ہونا چاہئے، كیونكہ مومن بندوں كو الله كى معیت اتباع بالاحسان میں مضمر ہے جس كى بنیاد اس ایمان کے رسوخ پرہے، جس پر حکم معلق ہے کہ جہاں معلّق علیہ پایاجائے گا وہیں معلق بھی پایاجائے گا اور وہ الله كى مدد ونصرت خواہ یہ ظاہری اسباب کے ذریعہ ہو یا مخفی اسباب کے ذریعہ۔ (البقاعى: 18؍319)
سوال: الله تعالىٰ نے مومنوں كیلئے جو كچھ مقدر كردیا ہے وه بہت بہتر ہے بنسبت مومنوں كے اپنے انتخابات سے، آیت كى روشنى میں اس كى وضاحت كیجئے.

سورۃ الفتح آیات 0 - 20

وَعَدَكُمُ ٱللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةٗ تَأۡخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمۡ هَٰذِهِۦ

الله تعالىٰ نے اس آیت میں قیامت تك كیلئے مومنوں سے بہت سارى غنیمتوں كا وعده كیا ہے جنہیں وه لوگ ان كے محدود اوقات میں پالیں گے۔(الشوكانى: 5؍51)
سوال: اس آیت سےمومنوں كے لئے الله كى تكریم كى وضاحت كیجئے.

سورۃ الفتح آیات 0 - 20

وَكَفَّ أَيۡدِيَ ٱلنَّاسِ عَنكُمۡ وَلِتَكُونَ ءَايَةٗ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ

(وكف أيدي الناس عنكم) یہ اس وقت ہوا تھا جب نبى كریمﷺ نے خیبر پر چڑھائى كى اور اس كا محاصره كر لیا تو بنى اسد وغطفان كے بعض قبیلوں نے مدینہ میں مسلمانوں كے اہل وعیال پر حملہ كرنے كا اراده كرلیا، ایسے وقت میں الله تعالىٰ نے ان كے دلوں میں رعب پیدا كركےان كے ہاتھ روک لئے۔(البغوى: 4؍175)
سوال: (لوگوں کے ہاتھ روک لئے) سے کیا مراد ہے؟

سورۃ الفتح آیات 0 - 23

سُنَّةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلُۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ ٱللَّهِ تَبۡدِيلٗا ٢٣

اور جب اللہ تعالیٰ نے اِس سنت و عادت کو ماضی میں رہنے کی بات کی تو اس نے اسے مستقبل کے ہرزمانہ میں جاری و ساری رہنے کے لئے اپنے اس قول کا (ولن تجد لسنة الله تبديلًا) ذکرکیا کیونکہ پچھلی قوموں وزمانوں كے واقعات اور پیغمبروں كے ذریعہ دئے گئے بیانات گواه ہیں كہ الله تعالىٰ نے اہل ایمان كى (ہمیشہ) مدد كى ہے جن سے معلوم ہورہا ہے کہ كوئى بھى اس الٰہى اراده كے بیچ حائل نہیں ہوسكتا۔ (ابن عاشور: 26؍183)
سوال: آیت (ولن تجد لسنة الله تبديلًا) كے ذریعہ تاكید كا فائده بتائیے.