قرآن
ﮮ
ﱎ
ﭚ ٤٠ ٤٠ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ٤١ ٤١ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ٤٢ ٤٢ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ٤٣ ٤٣ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ٤٤ ٤٤ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ٤٥ ٤٥ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ٤٦ ٤٦ ﯾ
ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ
ﰎ ﰏ ﰐ ٤٧ ٤٧ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ٤٨ ٤٨
وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا ثُمَّ يَقُولُ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ أَهَٰٓؤُلَآءِ إِيَّاكُمۡ كَانُواْ يَعۡبُدُونَ ٤٠
الله تعالىٰ خبر دےرہا ہے كہ قیامت كےدن پورى مخلوق كے سامنے مشركوں كو رسوا كرے گا اور فرشتوں سے پوچھے گا: (أهؤلاء إياكم كانوا يعبدون) كیا یہى لوگ ہیں جو تمہارى عبادت كرتےتھے؟ ) (ابن كثیر: 3؍520)
سوال: قیامت كے دن الله تعالىٰ فرشتوں سے مشركین كى ان كى عبادت كے تعلق سے پوچھے گا، اسكى كیا حكمت ہے؟
وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا ثُمَّ يَقُولُ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ أَهَٰٓؤُلَآءِ إِيَّاكُمۡ كَانُواْ يَعۡبُدُونَ ٤٠
صرف فرشتوں سے اقرار كروانے اور مشركین كے خلاف ان كى گواہى لینے كى وجہ یہ ہے كہ فرشتوں كى الوہیت كو باطل كردینے سے ان سے چھوٹى مخلوق كى الوہیت بدرجہ اولیٰ خود بخود باطل ہوجاتى ہےجن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، اور حشر كے اسباب میں سے یہ اقرار بھى ایك اہم سبب ہے۔ (ابن عاشور ہے: 22؍222)
سوال: صرف فرشتوں سے اقرار كروانے اور مشركین كے خلاف ان كى گواہى لینے كى كیا وجہ ہے؟
وَكَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَمَا بَلَغُواْ مِعۡشَارَ مَآ ءَاتَيۡنَٰهُمۡ فَكَذَّبُواْ رُسُلِيۖ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيرِ ٤٥
یعنى پچھلى امتوں كو ہم نے طاقت وقوت ، نعمت اور درازئ عمر عطا كى (فكذبوا رسلي فكيف كان نكير) (تو انہوں نے میرے رسولوں كو جھٹلا دیا، تو دیكھا میرا بدلنا كیسا ہوا) یعنى انكے خلاف میرا بدل جانا، ایسا كہہ كر الله تعالىٰ پچھلى امتوں كے عذاب سے اس امت كےكفار كو ڈرا رہاہے۔(البغوى: 3؍611)
سوال: امت محمدیہ سے پہلى جھٹلانے والى طاقتور قوموں كى طرف قرآن نے اشاره كیا ہے، اس میں كیا راز ہے؟
وَكَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَمَا بَلَغُواْ مِعۡشَارَ مَآ ءَاتَيۡنَٰهُمۡ فَكَذَّبُواْ رُسُلِيۖ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيرِ ٤٥
مفہوم یہ ہے كہ محمد ﷺ كے معاملے میں غور وفكر كرنے كیلئے الله كےواسطے كھڑےہوجاؤ، اس طرح سے كہ اس میں کسی نفسانی خواہش كا دخل نہ ہو اور نہ ہى كسى جانب میلان ہو، یہاں كھڑا ہونے سے مراد دونوں پیر پر كھڑا ہونا نہیں ہے، بلكہ حكم كو بجا لانا اور اسكے لئے كوشش كرنا ہے۔(ابن جزى: 2؍209)
سوال: الله كے حكم كیلئے كھڑا ہونا خالص كب ہوگا؟ اور كب باطل ہوگا؟
۞قُلۡ إِنَّمَآ أَعِظُكُم بِوَٰحِدَةٍۖ أَن تَقُومُواْ لِلَّهِ مَثۡنَىٰ وَفُرَٰدَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُواْۚ مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا نَذِيرٞ لَّكُم بَيۡنَ يَدَيۡ عَذَابٖ شَدِيدٖ ٤٦
(ثم تتفكروا) پھر غور كرو كہ كیا تم نے كبھى اپنے ساتھى كے تعلق سے جھوٹ كا تجربہ كیا ہے، یا اس كے اندر كبھى جنون دیكھا ہے، یا اسكى حالت میں كبھى كسى طرح كا بگاڑ پایا، یا كبھى كسى جادو كے دعویدار كےپاس گیا، یا كبھى قصے كہانیاں سیكھا اور كتابیں پڑھیں، یا كبھى تم نے ایسا سمجھا كہ اسے تمہارے مال كى لالچ ہو، یا كبھى تم كسى ایك بھى سورت میں اس سے مقابلہ كرنے پر قادر ہوئے ؟ جب اس طرح غور وفكر كركے اس كى سچائى كا علم تمہیں ہوگیا تو پھر كیا وجہ ہے اس ہٹ دھرمى كى؟ (القرطبى: 17؍330)
سوال: كس طرح كے غور وفكر كى دعوت انہیں دى گئى ہے؟ اور اس سے ہم باطل سے حق كو كیسے جانیں گے؟
قُلۡ مَا سَأَلۡتُكُم مِّنۡ أَجۡرٖ فَهُوَ لَكُمۡۖ
ایك اور مانع ہوسکتا ہے جو نفوس كو داعئ حق كى آواز پر لبیك كہنے سے روكتا ہے اوروه مانع یہ ہوسکتاہے كہ داعى اپنى آواز پر لبیك كہنے والوں سے ، اپنى دعوت كى اجرت كے طور پر مال اینٹھ لیتا ہو ، اس لئے الله تبارك وتعالىٰ نے اس قسم كے ہتھكنڈوں سے اپنے رسول كى براءت بیان كرتےہوئے فرمایا: (قل ما سألتكم من أجر) فرما دیجیئے: میں تم سے كوئى اجر نہیں مانگتا۔ یعنى تمہارے حق كى اتباع كرنےپر۔( فَهُوَ لكم)یعنی میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ بالفرض اگر یہ اجرت ہے بھی تو تمہارے فائدے کے لئے ہے۔(السعدى: 683)
سوال: اس آیت میں الله تعالىٰ نے سچے دعاة كى نشانیوں میں سے ایك نشانى كا ذكر كیا ہے، وه كیا ہے؟
قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَقۡذِفُ بِٱلۡحَقِّ عَلَّٰمُ ٱلۡغُيُوبِ ٤٨
دیگر الہى اوصاف میں سے خصوصى طور سے (علاَّم الغيوب) كو ذكر كرنے سے اس بات كى طرف اشاره ہے كہ نیتوں كو جاننے والا وہى ہے، اور یہ چیز كہنے والا بھى جانتا ہے، چنانچہ جسے یہ پتہ ہو وہ الله پر یہ باطل دعویٰ کرنے کی جراءت نہیں کرسکتا کہ اللہ نے اسے تمہاری طرف بھیجا ہے۔ (یعنی وہ اس دعویٰ میں سچا ہے) (ابن عاشور: 22؍238)
سوال: آیت كریمہ میں (علاَّم الغيوب) جیسى صفت لانے كا كیا فائده ہے؟