قرآن
ﮎ
ﰹ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ١٧ ١٧ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ١٨ ١٨ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ١٩ ١٩ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ٢٠ ٢٠ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ٢١ ٢١ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ٢٢ ٢٢ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ٢٣ ٢٣ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ
ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ٢٤ ٢٤
مَثَلُهُمۡ كَمَثَلِ ٱلَّذِي ٱسۡتَوۡقَدَ نَارٗا فَلَمَّآ أَضَآءَتۡ مَا حَوۡلَهُۥ ذَهَبَ ٱللَّهُ بِنُورِهِمۡ وَتَرَكَهُمۡ فِي ظُلُمَٰتٖ لَّا يُبۡصِرُونَ ١٧
اگر کہا جائے کہ:منافقین کو ایسے شخص سے تشبیہ کیوں دی گئی جو ایسی آگ جلائے جو روشن ہوکر بجھ جائے؟تو جواب تین طرح کا ہوسکتا ہے:پہلا:دنیا میں ایمان کے دعوے سے انہیں حاصل ہونے والا فائدہ روشنی کے مشابہ ہے، اور آخر ت میں انہیں ملنے والا عذاب (روشنی کے بعدوالی)تاریکی کے مشابہ ہے ۔
دوسرا:ان کے کفر کا چھپا رہنا، اجالے کی طرح ہے(کہ انہیں مومن سمجھا جارہا ہے) اور ان کی رسوائی اندھیرے کی طرح ہے ۔
تیسرا:یہ(تشبیہ)ان منافقین کے حق میں ہے جو ایمان لائے اور پھر کفرکرے، پس ایسے شخص کا ایمان لانانور ہے،اور اس کے بعد کفر کرنا ظلمت(تاریکی)ہے، اور یہی قول راجح ہے ، جيسا كہ ارشادِ باری تعالىٰ ہے:(ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ )(سورۂ منافقون:۳)یہ اس لئے ہے کہ وہ ایمان لائے پھر انہوں نے کفر کیا۔(ابن جزی:۱؍۵۴)
سوال:وہ آگ جس نے اجالا پھیلایا پھر بے نور ہوگئی ،ایسی آگ (جلانے والے)شخص سے منافقین کو تشبیہ دینے کی کیا وجہ ہے؟
صُمُّۢ بُكۡمٌ عُمۡيٞ فَهُمۡ لَا يَرۡجِعُونَ ١٨
اللہ تعالیٰ نے انہیں بہرا کہا ،كيونكہ وہ بھلائی کو سننے سے بہرے ہیں،انہیں گونگا کہا ،كيونكہ وہ بھلی بات بولنے سے گونگے ہیں، اور اندھا کہا،كيونكہ وہ حق کو دیکھنے سے اندھے ہیں، لہٰذا وہ واپس پلٹ نہیں سکتے،کیونکہ انہوں نے حق کو جان لینے کے بعد اسے چھوڑدیا۔برخلاف اس شخص کے جس نے لاعلمی اور گمراہی کی وجہ سے حق کو چھوڑ رکھا ہے،کیونکہ وہ اسے جان نہیں پارہا ہے۔تو ان منافقین کی بہ نسبت ایسے شخص کے حق کی طرف واپس لوٹ آنے کی زیادہ امید رہتی ہے۔(السعدی: ۴۴)
سوال:اللہ تعالیٰ نے منافقین کا یہ وصف کیوں بیان فرمایا کہ وہ (واپس )لوٹ نہیں سکتے؟
وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمۡعِهِمۡ وَأَبۡصَٰرِهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٢٠
‘‘اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کا ہر چیز پر قادر ہونا بیان کیا ہے۔کیونکہ اس نے منافقین کو اپنی قوت وعذاب سے اور اپنی سخت پكڑ سے ڈرایا ہے، نیز انہیں خبردار کیا ہے کہ وہ انہیں پوری طرح گھیرے ہوئے ہے، اور ان کی سننے اور دیکھنے کی صلاحیتیں چھین لینے پر کامل قدرت رکھتا ہے’’۔(الطبری:۱؍۳۶۱)
سوال:اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔اس صفت کے ساتھ آیت کو ختم کرنے کی کیا وجہ ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱعۡبُدُواْ رَبَّكُمُ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ ٢١
(ٱعۡبُدُواْ رَبَّكُمُ)عبادت کےاس حکم میں اللہ سبحانہ پر ایمان لانا ،اس کی وحدانیت کو ماننا، اور اس کی اطاعت وفرمانبرداری سب داخل ہیں ۔چنانچہ ایمان لانے کا حکم اس کو ہے جو انکارکرنے والا ہے۔توحید کا حکم اس کو ہے جو مشرک ہے، اور اطاعت وپیروی کا حکم اس کو ہے جو صاحبِ ایما ن ہے۔(ابن جزی:۱؍۵۶)
سوال:کتنے قسم کے لوگوں کو اس آیت میں عبادت کی طرف بلایا گیا ہے؟ وضاحت کیجئے.
فَلَا تَجۡعَلُواْ لِلَّهِ أَندَادٗا وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٢٢
یہ ایک واضح اورمحکم آیت ہے ،جس پر تمام شریعتیں متفق ہیں، اور تمام (آسمانی) کتابیں اس کے موافق ہیں۔اور یہ (حکم) انکساری وخشوع کا ستون ہے ،اور اسی پر بندگی اور عاجزی کادارومدار ہے۔ (البقاعی:۱؍۵۹)
سوال:اس آیت میں اللہ کی عبادت کا ایک ضابطہ بيان هواہے۔وہ کیا ہے؟
وَإِن كُنتُمۡ فِي رَيۡبٖ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلَىٰ عَبۡدِنَا فَأۡتُواْ بِسُورَةٖ مِّن مِّثۡلِهِۦ وَٱدۡعُواْ شُهَدَآءَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٢٣ فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ وَلَن تَفۡعَلُواْ
یعنی یہ کام(قرآن کے مثل کوئی سورت لانا) تم کبھی بھی نہیں کرسکتے۔یہ بھی ایک دوسرا معجزہ ہے ،کہ نبی کریم ﷺ نے یقین و عزم کے ساتھ بغیر کسی خوف اور جھجک کے فیصلہ کن پیشگی خبر دی ؛کہ اس قرآن کے مقابلہ میں اس کے مثل کلام کبھی بھی پیش نہیں کیا جاسکتا، اور بالکل یہی ہوابھی۔رسول اللہ ﷺ سے لے کر ہمارے زمانہ تک قرآن کا مقابلہ نہیں کیا جاسکا، اور نہ ہی آئندہ ایساممکن ہے، اور یہ کسی کے لئے ممکن ہوگا بھی کیسے؟(یہ تو خالق کا کلام ہےاور مخلوق کا کلام خالق کے کلام کے مشابہ کیسے ہوسکتاہے)؟(ابن کثیر:۱؍۵۸)
سوال: اس آیت ميں قرآن کے ایک کھلے معجزے کا بيان ہے۔ وه معجزه كيا هے؟
وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلۡحِجَارَةُۖ أُعِدَّتۡ لِلۡكَٰفِرِينَ ٢٤
اللہ سبحانہ نے (جہنم کے ایندھن میں)انسانوں کا پہلے ذکر کیا، اس لئے کہ وہی درد کا احساس رکھتے ہیں۔یا اس لئے کہ ان کی کھاليں ،گوشت پوست اور چربی پتھر جيسے جمادات کے مقابل ميں کہیں زیادہ تیز جلیں گے۔ اور اس سے انسان کو جہنم سے خوف زدہ کرنا بھي مقصود ہے۔(الألوسی:۱؍۱۹۹)
سوال:آگ کا ایندھن بننے میں انسانوں کو پتھروں سے پہلے کیوں ذکر کیا گیا؟