قرآن
ﮨ
ﱌ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ٥٢ ٥٢ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ٥٣ ٥٣ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ٥٤ ٥٤ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ٥٥ ٥٥ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ٥٦ ٥٦
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ٥٧ ٥٧ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ٥٨ ٥٨ ﯮ ﯯ ﯰ
ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ
ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ٥٩ ٥٩
۞وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ ٱلۡقَوۡلَ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ ٥١
پے درپے قرآن کو نازل کرنے کی بہت ساری حالتیں ہیں:الفاظ کے اعتبار سے تھوڑا تھوڑا نازل ہوا،یکبارگی نہیں اتر گیا۔ البتہ معانی کے اعتبار سے کلام کی مختلف شکلیں پہنچی ہیں جیسے وعد ووعید،ترغیب وترہیب،قصے،مواعظ اور عبر ت ونصیحتیں۔جو یکے بعد دیگرے پہنچتے رہے ہیں۔اور ان میں سے ہر ایک غوروفکر ا ورتدبر کے واسطے ذہن کو حاضر وچست رکھنے میں معاون ومددگار ہے۔ (ابن عاشور: ۲۰؍۱۴۲)
سوال:قرآن کریم کے پے درپے ہونے کی حالتیں بیان کیجئے.
وَيَدۡرَءُونَ بِٱلۡحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ
بقولِ بعض برائیوں کو دور کرکے اور ان کے بدلے میں خوش گفتاری اختیار کرکے ان کا جواب دیتے ہیں۔اور بقول ِبعض توبہ واستغفار کے ذریعہ گناہوں کو دفع کردیتے ہیں۔ اس طور پر پہلے معنی کے اعتبار سے یہ مکارم ِاخلا ق کی صفت ہوگی یعنی جو اُن سے بری بات کہتے ہیں تو وہ اسے اچھی بات کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ (القرطبی: ۱۶؍۲۹۶)
سوال:نیکی کے ذریعہ برائی کو کیسے دفع کیا جاسکتا ہے؟
وَإِذَا سَمِعُواْ ٱللَّغۡوَ أَعۡرَضُواْ عَنۡهُ وَقَالُواْ لَنَآ أَعۡمَٰلُنَا وَلَكُمۡ أَعۡمَٰلُكُمۡ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡ لَا نَبۡتَغِي ٱلۡجَٰهِلِينَ ٥٥
(لا نبتغي الجاهلين) یعنی ہم جاہلوں سے نہیں الجھتے۔ ان کی یہ بات کس قدر صریح اور اچھی ہے! اس سے ان کے اخلاق کا پتہ چلتاہے کہ وہ علم اور عمدہ اخلاق کے طلبگار ہیں۔ (ابن عاشور: ۲۰؍۱۴۶)
سوال:اہل ِکتاب میں سے جو لوگ قرآن پر ایمان لے آئے ان کی یہ بات(لا نبتغي الجاهلين)کس چیز کی طرف اشارہ کرتی ہے؟
سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡ لَا نَبۡتَغِي ٱلۡجَٰهِلِينَ ٥٥
(سلام عليكم) سلامتی ہو تم پر۔ یہاں اس جملہ سے مراد“تحیۃ اور سلام” نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ترک ِکلام اور دوری اختیار کرنا ہے۔یا یہ کہ جدائی اور دوری اختیار کرنے کا سلام مراد ہے۔ (لا نبتغي الجاهلين) ہم جاہلوں سے نہیں لگتے یعنی ان سے باتوں میں تکرار اور بحث ومباحثہ نہیں چاہتے۔ (ابن جزی: ۲؍۱۴۷)
سوال:باطل اور لہو ولعب کی مجلس میں ہوں تو ایک مسلمان کو کیا کرنا چاہئے؟
إِنَّكَ لَا تَهۡدِي مَنۡ أَحۡبَبۡتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ ٥٦
کہتے ہیں کہ وہ ہدایت جو دلوں میں ہوتی ہے وہ اللہ کے علاوہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔لیکن بندہ اس کے اسباب پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ کے قول:(اهدنا الصراط المستقيم)، سے یہی مطلوب ہے۔اور (إنك لا تهدي من أحببت)کے ذریعہ رسول اللہ ﷺسے اسی ہدایت کی نفی کی گئی ہے۔(ابن تیمیہ: ۵؍۸۷)
سوال:اُ س ہدایت سے کیا مراد ہے جس کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے؟
وَقَالُوٓاْ إِن نَّتَّبِعِ ٱلۡهُدَىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّفۡ مِنۡ أَرۡضِنَآۚ أَوَ لَمۡ نُمَكِّن لَّهُمۡ حَرَمًا ءَامِنٗا يُجۡبَىٰٓ إِلَيۡهِ ثَمَرَٰتُ كُلِّ شَيۡءٖ رِّزۡقٗا مِّن لَّدُنَّا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٥٧
ایمان لانے کی صورت میں اچک لئے جانے کے خوف کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کیونکہ جب بت پرستی کے باوجود انہیں اس کا خوف نہیں ہے تو وہ ایمان لانے کے بعد کیسے خوف میں مبتلا ہوسکتے ہیں حالانکہ ایسی صورت میں انہیں مقام کی حرمت کے ساتھ ساتھ ایمان کی حرمت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ (الالوسی: ۱۰؍۳۰۵)
سوال:ہدایت اور شریعت ِالٰہی کی تابعداری میں ہی حقیقی اَمان ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے.
وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَرۡيَةِۢ بَطِرَتۡ مَعِيشَتَهَاۖ فَتِلۡكَ مَسَٰكِنُهُمۡ لَمۡ تُسۡكَن مِّنۢ بَعۡدِهِمۡ إِلَّا قَلِيلٗاۖ وَكُنَّا نَحۡنُ ٱلۡوَٰرِثِينَ ٥٨
بستیوں میں ان کے اترانے کا مطلب یہ ہے کہ:فخر وگھمنڈ،عیش پرستی اور خوشحالی کے مزے میں اس قدر حد سے بڑھ گئے کہ انہوں نے بستیوں کو بگاڑکر رکھ دیا اور نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ انہوں نے حیرت میں پڑے مدہوش شخص کی طرح نعمتوں کو حاصل کیا اسی لئے ان کی قدردانی نہیں کی۔(البقاعی: ۱۴؍۳۲۷)
سوال:حد سے بڑھی ہوئی نعمتوں والی زندگی کب ہلاکت کا باعث بن جاتی ہے؟