قرآن
ﮣ
ﱊ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ١٠٦ ١٠٦ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ١٠٧ ١٠٧ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ١٠٨ ١٠٨ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ١٠٩ ١٠٩ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ١١٠ ١١٠
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ١١١ ١١١ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ١١٢ ١١٢ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ١١٣ ١١٣ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ١١٤ ١١٤ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ١١٥ ١١٥ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ١١٦ ١١٦ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ١١٧ ١١٧ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ١١٨ ١١٨
ﮤ
قَالُواْ رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا
یعنی ہمارے اوپر حجت قائم ہوچکی تھی لیکن یہ ہماری بدبختی تھی کہ اسے نہیں مانا اور نہ اس کی پیروی کی۔ (ابن کثیر: ۳؍۲۴۹)
سوال:انسان پر بدبختی اور سختی کے غالب ہونے کی سنگینی اور اس کے خطرے کو واضح کیجئے.
قَالُواْ رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا وَكُنَّا قَوۡمٗا ضَآلِّينَ ١٠٦
اس کا سب سے بہتر مفہوم یہ بتایا گیا ہے کہ: ہم پر ہماری لذتیں اور خواہشات غالب آگئیں۔لذتوں اور خواہشات کو بدبختی کہا گیا کیونکہ یہی چیزیں وہاں تک پہنچاتی ہیں۔ اور کہا گیاکہ: اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے ساتھ حسن ِظن رکھا اور دوسروں کے ساتھ براگمان رکھا۔ (البغوی:۱۵؍۹۱)
سوال:لذت اور خواہش ِنفس کو بدبختی کیوں کہا گیاہے؟
إِنَّهُۥ كَانَ فَرِيقٞ مِّنۡ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغۡفِرۡ لَنَا وَٱرۡحَمۡنَا وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلرَّٰحِمِينَ ١٠٩ فَٱتَّخَذۡتُمُوهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتَّىٰٓ أَنسَوۡكُمۡ ذِكۡرِي وَكُنتُم مِّنۡهُمۡ تَضۡحَكُونَ ١١٠
اس سے پتہ چلا کہ کمزوروں اور مسکینوں کا مذاق اڑانے،ان پر ہنسنے،انہیں حقیراور کمتر سمجھنے نیز انہیں فضول چیزوں میں مشغول رکھنے سے بچنا چاہئے کیونکہ یہ چیز یں اللہ سے دور کرنے والی ہیں۔ (القرطبی: ۱۵؍۹۵)
سوال:آیت کی روشنی میں کمزوروں کا مذاق اڑانے اور ان پر ہنسنے کی سنگینی اور اس کے خطرے کو واضح کیجئے.
إِنَّهُۥ كَانَ فَرِيقٞ مِّنۡ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغۡفِرۡ لَنَا وَٱرۡحَمۡنَا وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلرَّٰحِمِينَ ١٠٩ فَٱتَّخَذۡتُمُوهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتَّىٰٓ أَنسَوۡكُمۡ ذِكۡرِي وَكُنتُم مِّنۡهُمۡ تَضۡحَكُونَ ١١٠
(إنه كان فريق من عبادي)کے اندر لفظ “اِنَّ” کہ جس پر زیر او ر تشدیدہے۔ سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں جن اسباب کی وجہ سے جہنم میں ڈالا گیا وہ ان کا اس مومن جماعت کا مذاق اڑانا اور ان پر ہنسنا ہے جو یہ دعا کرتے تھے: (ربنا آمنا فاغفر لنا وارحمنا وأنت خير الراحمين)؛ چنانچہ کفار دنیا میں کمزور مومنوں کا مذاق اڑاتے تھے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ذکر اور ایمان سے غافل ہوجاتے تھے اور اسی وجہ سے وہ جہنم میں جائیں گے۔ (شِنقیطی: ۵؍۳۶۰)
سوال:نیک لوگوں کا مذاق اڑانے اور ان پر ہنسنے کا بڑا بھیانک انجام ہے۔وہ کیا ہے؟
قَٰلَ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ عَدَدَ سِنِينَ ١١٢ قَالُواْ لَبِثۡنَا يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٖ فَسۡـَٔلِ ٱلۡعَآدِّينَ ١١٣
اس کا مقصد یہ ہے کہ انہیں اس بات سے واقف کرایا جائیگا کہ دنیا میں ان کی عمریں بہت کم تھیں اور وہی ایک لمبے عذاب کا سبب بنیں۔ (ابن عطیہ: ۴؍۱۵۸)
سوال:اللہ تعالیٰ جہنمیوں سے اس مدت کے بارے میں کیوں سوال کرے گا جو انہوں نے دنیا میں گذاری تھی؟
أَفَحَسِبۡتُمۡ أَنَّمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ عَبَثٗا وَأَنَّكُمۡ إِلَيۡنَا لَا تُرۡجَعُونَ ١١٥ فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡحَقُّۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡكَرِيمِ ١١٦
(فتعالى الله) یعنی: اس باطل گمان سے جو اُس کی حکمت کے منافی ہےاللہ تعالیٰ بہت بڑا اور بلند تر ہے ۔(السعدی؍۵۶۰)
سوال:آیت کے شروع میں لوگوں کے بے مطلب اور بے کار گمان کا ذکر کرنے کے بعد (فتعالى الله)کا جملہ کیوں لایا گیا؟
وَمَن يَدۡعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ لَا بُرۡهَٰنَ لَهُۥ بِهِۦ فَإِنَّمَا حِسَابُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦٓۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلۡكَٰفِرُونَ ١١٧
ذرا دیکھیں!کیسے مومنوں کی کامیابی سے اس سورت کو شروع کیا اور اسے کافروں کی ناکامی پر ختم کیا تاکہ دونوں جماعتوں کے درمیان دوری کو واضح کردے۔اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔(ابن جزی: ۲؍۷۹)
سوال:اس سورت کے پہلے حصہ کی اس کے آخری حصہ سے کیا مناسبت ہے؟