قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٢١١ ٢١١



٢١٢ ٢١٢
ﭿ




٢١٣ ٢١٣



٢١٤ ٢١٤

ﯿ
٢١٥ ٢١٥
33
سورۃ البقرہ آیات 0 - 211

سَلۡ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ كَمۡ ءَاتَيۡنَٰهُم مِّنۡ ءَايَةِۢ بَيِّنَةٖۗ وَمَن يُبَدِّلۡ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٢١١

تبدیلی کی اصل (اور حقیقت)یہ ہے کہ عالم کا علم اسی پر لوٹادیا جائے اور نیک آدمی کی نیکی اسی کی طرف پلٹا دی جائے، عالم کے علم پر عمل نہ کیا جائے اورنیک آدمی کی نیکی سے ہدایت ورہنمائی نہ لی جائے۔ (البقاعی:۱؍۳۹۰)
سوال: آیت میں نعمت الہٰی کی تبدیلی کی اصل کیا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 211

وَمَن يُبَدِّلۡ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٢١١

اللہ تعالیٰ نے اگرکسی شخص کو کوئی دینی یا دنیوی نعمت عطا کی اور اس نے اس نعمت کا شکر ادا نہیں کیا اور اس کے تقاضے نہیں نبھائے تو وہ نعمت چھن جاتی ہے اور کفر اور گناہوں سے بدل جاتی ہے۔اس طرح کفراس نعمت کا بدل بن جاتا ہے۔مگر جو شخص اللہ تعالیٰ کا شکر بجالاتا ہے اور نعمت کا حق ادا کرتا ہے تو اس کی نعمت قائم وبرقرار رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس نعمت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ (السعدی:۹۵)
سوال: نعمت کیسے قائم رہتی ہے اور کیسے زائل ہوتی ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 212

زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَيَسۡخَرُونَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۘ وَٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ

کفار،آپ کی تصدیق کرنے والے اہل ایمان کی ہنسی اڑاتے ہیں،اس بات پر کہ وہ دنیا اور اس کی زیب وزینت جیسے عمدہ لباس ،معاش اور مال ومتاع میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور فخر وزیادتی جتانے کے پیچھے نہیں پڑتے ،نہ ہی سرداری اور برتری کی چاہت میں گھلے جاتے ہیں۔بلکہ وہ (مومنین) دنیاکو تج کر اس کی زیب وزینت چھوڑکر میرے پاس موجود اجر وثواب کی طلب میں لگے رہتے ہیں۔ (الطبری:۴؍۲۷۳)
سوال: دنیا دارلوگوں کی نگاہ میں فلاح وکامیابی کے پیمانے کیا ہیں؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 213

فَهَدَى ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ مِنَ ٱلۡحَقِّ بِإِذۡنِهِۦۗ وَٱللَّهُ يَهۡدِي مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٍ ٢١٣

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب رات میں تہجد کی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تو کہتے تھے : ‘‘اَللّٰہُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَمِیْکَاءِیْلَ وَاِسْرَافِیْلَ ، فاطِرَ السَّمٰواتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْمَا کانُوْا فِیْہِ يَختَلِفُوْنَ، اِھدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ باِذْنِكَ ،اِنَّكَ تَہْدِیْ مَنْ تَشَاءُ اِلیٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقیْمٍ’’۔(اے اللہ!اے جبریل،میکائیل اور اسرافیل کے رب!اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے!اے غیب اور ظاہرکو جاننے والے !تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان چیزوں کا فیصلہ کریگا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔تو اپنے حکم سے اس حق کا راستہ بتادے جس میں اختلاف کیا گیا ہے ۔یقیناًتو جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی ہدایت سے نوازتا ہے)۔ (ابن تیمیہ:۱؍۴۹۳)
سوال: نبی ﷺ اختلافی معاملات میں اللہ سے ہدایت طلب کرتے تھے ۔آپ کی دعا کیا تھی؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 214

أَمۡ حَسِبۡتُمۡ أَن تَدۡخُلُواْ ٱلۡجَنَّةَ وَلَمَّا يَأۡتِكُم مَّثَلُ ٱلَّذِينَ خَلَوۡاْ مِن قَبۡلِكُمۖ مَّسَّتۡهُمُ ٱلۡبَأۡسَآءُ وَٱلضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُواْ حَتَّىٰ يَقُولَ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ مَتَىٰ نَصۡرُ ٱللَّهِۗ أَلَآ إِنَّ نَصۡرَ ٱللَّهِ قَرِيبٞ ٢١٤

(أَمۡ حَسِبۡتُمۡ) کیا تم نے سمجھ رکھا ہے ۔ یہ حوصلہ افزائی کے طور پر مومنوں سے خطاب ہے اور انہیں مصائب اور سخت حالات میں صبر کرنے کی تلقین ہے۔(وَلَمَّا يَأۡتِكُم) یعنی تم جنت میں نہیں جاسکتے یہاں تک کہ تمہیں بھی ویسی ہی آزمائشیں اور سختیاں پیش نہ آجائیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں کو پیش آئی تھیں۔ (ابن جزی:۱؍۱۰۷)
سوال:آپ نے آیت کا جو مطلب سمجھا ہے ، اس کی روشنی میں بتائیے کہ جنت میں جانے کی کیا شرط ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 214

أَمۡ حَسِبۡتُمۡ أَن تَدۡخُلُواْ ٱلۡجَنَّةَ وَلَمَّا يَأۡتِكُم مَّثَلُ ٱلَّذِينَ خَلَوۡاْ مِن قَبۡلِكُمۖ مَّسَّتۡهُمُ ٱلۡبَأۡسَآءُ وَٱلضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُواْ حَتَّىٰ يَقُولَ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ مَتَىٰ نَصۡرُ ٱللَّهِۗ أَلَآ إِنَّ نَصۡرَ ٱللَّهِ قَرِيبٞ ٢١٤

آیت میں اس بات سے آگاہ کیا گیا ہے کہ مشکل حالات میں جب اللہ کے علاوہ دوسرے تمام سہارے ٹوٹ جاتے ہیں۔تب اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو غم سے راحت اور کشادگی دیتا ہے تاکہ ان کے دلوں کو تقویٰ کے لئے خالص کردے ، تاکہ ان کی نیتیں مخلوق میں سے کسی بھی چیز کی طرف مائل ہونے سے پاک ہوجائیں اور ان کے ضمیر اور دل اکیلے اللہ سے وابستہ رہیں۔ (البقاعی:۱؍۳۹۷)
سوال: اللہ کی مدد میں بسااوقات تاخیر کیوں ہوتی ہیں؟ آیت کی روشنی میں وضاحت کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 215

يَسۡٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَۖ قُلۡ مَآ أَنفَقۡتُم مِّنۡ خَيۡرٖ فَلِلۡوَٰلِدَيۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِينَ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۗ وَمَا تَفۡعَلُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٞ ٢١٥

آیت کو علم کے ساتھ ختم فرمایا؛ اس لئے کہ خرچ کرنے کے عمل میں نیتیں خراب ہوجاتی ہیں اور ان میں خلل آجاتا ہے۔کیونکہ خرچ کرنا ایسا عمل ہے جس پر نفس سب سے زیادہ شدّ ومد کے ساتھ شیخی بگھارتا اور فخر وشان کا مظاہرہ کرتا ہے ،چنانچہ شاید ہی کوئی نفس اس سے محفوظ رہتا ہو۔صرف وہی بچتا ہے جس کا بایاں ہاتھ نہیں جانتا کہ اس کے دائیں ہاتھ نےکیا عمل کیا ہے۔ (البقاعی:۱؍۴۰۰)
سوال:آیت کو اللہ تعالیٰ کی صفت علم سے ختم کرنا کس بات پر دلالت کرتا ہے؟