قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١٠٣ ١٠٣

١٠٤ ١٠٤

١٠٥ ١٠٥

ﭿ


١٠٦ ١٠٦


١٠٧ ١٠٧

١٠٨ ١٠٨

١٠٩ ١٠٩


١١٠ ١١٠
279
سورۃ النحل آیات 0 - 105

إِنَّمَا يَفۡتَرِي ٱلۡكَذِبَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَٰذِبُونَ ١٠٥

یہ مشرکوں اور کافروں کے اس قول ﴿إِنَّمَآ أَنتَ مُفۡتَرِۭ﴾ [النحل: 101]؛ یقینا آپ تو گھڑنے والے ہیں۔ کا رد ہے۔اور اس تردیدی جواب کا مطلب ہے:جھوٹ بولنا اسی کے لائق ہے جو ایمان نہیں رکھتا اس لئے کہ وہ اللہ سے نہیں ڈرتا۔رہا وہ شخص جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے وہ اس پر جھوٹ نہیں باندھ سکتا۔ (ابن جزی: ۱؍۷۴۷)
سوال:ایمان جھوٹ کے منافی ہے۔ آیت کی مدد سے اس پر روشنی ڈالئے.

سورۃ النحل آیات 0 - 106

مَن كَفَرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ إِيمَٰنِهِۦٓ إِلَّا مَنۡ أُكۡرِهَ وَقَلۡبُهُۥ مُطۡمَئِنُّۢ بِٱلۡإِيمَٰنِ

جس شخص کو زورزبردستی کرکے کفر کے قول یا عمل پر مجبور کیا گیا ہو، جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو،ایمان کی رغبت اور چاہت رکھتا ہو تو اس پر مجبوری کی بناپر نہ کوئی حرج ہے اور نہ کوئی گناہ۔ (السعدی؍۴۵۰)
سوال:اللہ کی رحمت بہت کشادہ ہے اور وہ اپنے بندوں کی مجبوری پر ان سے بازپرس نہیں کرتا۔آیت کے ذریعہ اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ النحل آیات 0 - 106

وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِٱلۡكُفۡرِ صَدۡرٗا فَعَلَيۡهِمۡ غَضَبٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ ١٠٦

یہاں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں بتایا ہے جو ایمان لانے اور سوچ سمجھ لینے کے بعد کفر کریں اور برضا ورغبت کفر کو قبول کرکے اس پر مطمئن ہوجائیں تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب نازل ہوگا۔اس وجہ سے کہ انہوں نے ایمان کو جان لینے کے بعد اس سے منہ موڑ لیا۔ (ابن کثیر: ۲؍۵۶۸)
سوال:اسلام سے پھر جانے والے مرتد کا گناہ اصلی کافر کے گناہ سے بڑاکیوں ہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 106

مَن كَفَرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ إِيمَٰنِهِۦٓ إِلَّا مَنۡ أُكۡرِهَ وَقَلۡبُهُۥ مُطۡمَئِنُّۢ بِٱلۡإِيمَٰنِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِٱلۡكُفۡرِ صَدۡرٗا فَعَلَيۡهِمۡ غَضَبٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ ١٠٦

علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جسے کفر پر مجبور کیا جائے اور وہ رخصت پر عمل کرنے کے بجائے مرجانا پسند کرے تو یہ شخص اللہ کے نزدیک رخصت اختیار کرنے والے کے مقابلہ میں کہیں زیادہ اجر وثواب کا حقدار ہوگا۔ (القرطبی: ۱۲؍۴۴۴)
سوال:جن لوگوں کو زبردستی کرکے کفر پر مجبور کیا گیا ہو۔اجر اور انعام میں ان کے درجات الگ الگ ہوں گے۔افضلیت کے اعتبار سے ان کے درجات ومراتب بتائیے.

سورۃ النحل آیات 0 - 107

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ ٱسۡتَحَبُّواْ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا عَلَى ٱلۡأٓخِرَةِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡكَٰفِرِينَ ١٠٧

انہوں نے صرف دنیا کی خاطر اسلام سے منہ موڑااور مرتد ہوگئے۔(ابن کثیر: ۲؍۵۶۸)
سوال:آیت میں بہت سے مرتد ہوجانے والوں کے ارتداد کی ایک اہم وجہ کون سی بتائی گئی ہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 107

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ ٱسۡتَحَبُّواْ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا عَلَى ٱلۡأٓخِرَةِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡكَٰفِرِينَ ١٠٧

اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو پسند کرنایہی نقصان اور خسارے میں ڈالنے کی جڑ اور بنیاد ہے۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۱۸۵)
سوال:وہ بنیاد کیا ہے جس پر کافروں کی گمراہی کی بنیاد کھڑی ہوئی ہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 108

أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَسَمۡعِهِمۡ وَأَبۡصَٰرِهِمۡۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡغَٰفِلُونَ ١٠٨

اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا: (أولئك الذين طبع الله على قلوبهم) یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے۔ یعنی وعظ ونصیحت کو سمجھنے سے۔ (وسمعهم) اور ان کے کانوں پر مہر لگادی۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سننے سے۔(وأبصارهم) اور ان کی آنکھوں پر۔ آیتوں کو دیکھنے سے (وأولئك هم الغافلون) یہی لوگ غافل ہیں۔ اس مقصد سے جو اُن سے طلب کیا گیا ہے۔ (القرطبی: ۱۲؍۴۴۹)
سوال:دلوں ،آنکھوں اور کانوں پر مہر لگنے کا کیا اثر ہوتا ہے؟