قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے





٦٩ ٦٩


ﭿ

٧٠ ٧٠




٧١ ٧١


٧٢ ٧٢
198
سورۃ التوبہ آیات 0 - 69

كَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ كَانُوٓاْ أَشَدَّ مِنكُمۡ قُوَّةٗ وَأَكۡثَرَ أَمۡوَٰلٗا وَأَوۡلَٰدٗا فَٱسۡتَمۡتَعُواْ بِخَلَٰقِهِمۡ فَٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِخَلَٰقِكُمۡ كَمَا ٱسۡتَمۡتَعَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُم بِخَلَٰقِهِمۡ وَخُضۡتُمۡ كَٱلَّذِي خَاضُوٓاْۚ أُوْلَٰٓئِكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ ٦٩

اس امت کے زیادہ تر لوگوں کو قرآن سمجھنے سے جس چیز نے روکا ہے وہ ان کی یہ غلط فہمی ہے کہ قرآن میں جو پہلے لوگوں کے قصے ہیں اور ادیان ومذاہب کو ماننے والوں میں سے جن لوگوں کو ثواب دیا گیا اورجن کو عذاب دیا گیاان کی جو خبریں ہیں ان سب کا مقصد صرف خبر دے دینا اور واقعات بیان کردینا ہے،بس۔ حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے ۔ بلکہ ان خبروں اور قصوں کا مقصد تو یہ ہے کہ ان تمام پچھلی قوموں جیسے واقعات اور ان جیسے حالات و آثار کا اس امت میں بھی بار بار مشاہدہ ہوتا رہتا ہے ان میں (ان خبروں اور قصوں سے) نصیحت لی جائے اور ہوشیار رہا جائے۔ (البقاعی: ۳؍۳۴۱)
سوال:قرآن میں آئے جن قصوں اور خبروں کو ہم پڑھتے ہیں ،ان کوقرآن میں بیان کرنے کاکیا مقصد ہے ؟

سورۃ التوبہ آیات 0 - 69

فَٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِخَلَٰقِكُمۡ كَمَا ٱسۡتَمۡتَعَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُم بِخَلَٰقِهِمۡ

(یہ تو منافقین وکفارکا حال ہے کہ دنیا میں اپنے مقدرکے حصے سے مزے لوٹتے رہنا ، باطل اور فضول باتوں میں الجھے رہنااور حق کو ناکام بنانے کے لئے باطل کے ذریعہ جھگڑنا یہی ان کے علم اور عمل ہیں۔ ) رہے مومن بندے، تو انہوں نے اپنے مقدر کے حصے سےاور دنیا میں دی گئی نعمتوں سے فائدہ اٹھایالیکن بایں طور کہ ان نعمتوں سے اللہ کی اطاعت بجالانے میں مدد حاصل کی اور جہاں تک ایمان والوں کے علوم کا تعلق ہے تو رسولوں کے علوم ہیں جو ہر طرح کے بلند مقا صد میں یقین کے درجے تک پہونچانے کے لئے اور حق کو ہتھیار بناکر باطل کومٹادینے کے لئے ہیں ۔ (السعدی: ۳۴۳)
سوال:دنیوی زندگی کے سامان سے مومنین کے فائدہ اٹھانے اور کفار ومنافقین کے فائدہ اٹھانے کے بیچ کیا فرق ہے؟

سورۃ التوبہ آیات 0 - 70

فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ ٧٠

یعنی: کفر وانکار کرکے ،حق کو جھٹلاکر، اللہ تعالیٰ کے شکر کو چھوڑکر اور اللہ کی نعمتیں جس مقصد کے لئے دی گئی تھیں، انہیں اس مقصد کی بجائے دوسرے کاموں کی طرف پھیر کرکے وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے رہے ۔نتیجے میں اس عذاب کے حقدار بن گئے ۔ (القاسمی: ۴۰؍۱۶۶)
سوال:اپنی جان پر ظلم کرنے اور اللہ کےاس عذاب کا حقدار بننے کی کیا شکلیں ہیں جو جھٹلانے والوں پر نازل ہوتا ہے؟

سورۃ التوبہ آیات 0 - 71

وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَيُطِيعُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓۚ

مومن مَردوں اور مومنہ عورتوں کے بارے میں یہ الفاظ استعمال کئے گئے (بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ) یعنی وہ ایک دوسرے کے ولی اور دوست ہیں۔ اس کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ اہل ایمان کوآپس میں جوڑنے والا رشتہ اسلامی ولایت( یعنی دین کا رشتہ) ہے ۔لہٰذا اس رشتے کے دائرے میں وہ سب برابر ہیں ،نہ ان میں سے کوئی دوسرے کا مقلِّد ہے اور نہ ہی بغیر علم اور دلیل کے کوئی دوسرے کے پیچھے چلنے والا ہے ۔کیونکہ “ولایت” کا معنی اخلاص اور سچے تعاون کا شعور دیتا ہے برخلاف منافقین کے ان کا معاملہ ایساہے جیسے ان میں کا ہر کوئی دوسرے کی برائیوں اور بری باتوں کے سہارے پنپتا اور زندگی پاتا ہے ۔ (ابن عاشور:۱۰؍۲۶۲)
سوال:آیت کریمہ نے مومنوں کے بارے میں یہ الفاظ کیوں استعمال کئے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے اولیاء(ببَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ) ہیں؟

سورۃ التوبہ آیات 0 - 71

وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ

یعنی ایمان والوں کے دل باہمی الفت و محبت اور مہربانی کے سلسلے میں متحد اور متفق ہوتے ہیں۔ ۔ (القرطبی: ۱۰؍۲۹۸)
سوال:بیان کیجئے کہ سچے مسلمان کا دل اپنے مسلمان بھائی کے حق میں کیساہوتا ہے ؟

سورۃ التوبہ آیات 0 - 71

أُوْلَٰٓئِكَ سَيَرۡحَمُهُمُ ٱللَّهُۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٞ ٧١

(إن الله عزيز حكيم) (بلا شبہ اللہ سب پر غالب، پوری حکمت والا ہے۔) یہ جملہ اپنے سے پہلے والے جملے (ُوْلَٰٓئِكَ سَيَرۡحَمُهُمُ ٱللَّهُ )عنقریب اللہ ان پر رحم فرمائیگا۔)کی وجہ بیان کررہا ہے ۔ یعنی: اللہ تعالیٰ اپنے زبردست اور غالب ہونے کی وجہ سے اپنے دوستوں کو نفع پہنچاتا ہے اور اپنی حکمت ودانائی کی وجہ سے بدلہ اسی کو دیتا ہے جو اس کا حقدار ہوتا ہے۔ (ابن عاشور: ۱۰؍۲۶۳)
سوال:آیت کریمہ کو اللہ کے دوناموں (عزيز حكيم)(زبردست غالب اور کامل حکمت والا) کے ساتھ ختم کرنے کی کیا مناسبت ہے؟

سورۃ التوبہ آیات 0 - 72

وَرِضۡوَٰنٞ مِّنَ ٱللَّهِ أَكۡبَرُۚ

اللہ تعالیٰ کی رضامندی جس سے وہ اہل جنت کو نوازے گا جنت میں انہیں ملنے والی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہوگی کیونکہ ان کو ملی ہوئی ساری نعمتیں اللہ کے دیدار اور اس کی رضامندی کے بغیر بے لطف اور بے لذت ہوں گی۔اور اس لئے بھی کہ رب کی خوشنودی ہی وہ اعلیٰ ترین مقصد ہے جو عبادت کرنے والوں کی چاہت اور تمنا ہوتی ہے اور یہی وہ آخری منزل ہے جسے پانے کے لئے محبت اور شوق رکھنے والے بھاگ دوڑ کرتے ہیں ۔غرض زمین اور آسمانوں کے رب کی رضا اورخوشنودی جنت کی ساری نعمتوں سے بڑی نعمت ہے۔ (السعدی: ۳۴۴)
سوال:اللہ کی رضامندی کو جنت کی ساری نعمتوں سے زیادہ بڑی نعمت کیوں کہا گیا ہے؟