قرآن
ﮓ
ﱁ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ
ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
ﭺ ١٥٠ ١٥٠ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ١٥١ ١٥١ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ١٥٢ ١٥٢ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ١٥٣ ١٥٣
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ١٥٤ ١٥٤ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ
ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ١٥٥ ١٥٥
وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ غَضۡبَٰنَ أَسِفٗا قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُونِي مِنۢ بَعۡدِيٓۖ
موسیٰ علیہ السلام کے آگ بگولاہونے ،غصے اور رنج سے بھر جانے کی وجہ یہ تھی کہ آپ علیہ السلام حق کے بارے میں کامل غیرت والے تھے اور قوم کے حق میں مکمل خیر خواہی اور شفقت ومہربانی والے تھے ۔ (السعدی: ۳۰۳)
سوال: موسیٰ علیہ السلام کے غصے اور رنج وافسوس کی وجہ کیا تھی؟
أَعَجِلۡتُمۡ أَمۡرَ رَبِّكُمۡۖ
عجلت یعنی جلدبازی۔کسی کام میں وقت سے پہلے پیش قدمی کرنے اور کر گزرنے کو کہتے ہیں ۔ یہ چیز بری اور ناپسندیدہ ہے جبکہ سُرعت یعنی تیزی کا معنی ہے : کسی چیز یا کام کو اس کے اول وقت میں کرلینا اور یہ اچھی اور پسندیدہ بات ہے ۔ (القرطبی: ۹؍۳۳۸)
سوال: عجلت یعنی جلد بازی اور سرعت یعنی تیزی کے بیچ کیا فرق ہے ؟اور دونوں میں پسندیدہ کیا ہے؟
قَالَ ٱبۡنَ أُمَّ إِنَّ ٱلۡقَوۡمَ ٱسۡتَضۡعَفُونِي وَكَادُواْ يَقۡتُلُونَنِي
اس موقع پر ہارون علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو “اِبنِ ام” یعنی ماں کا بیٹا کہہ کر مخاطب کیا تاکہ موسیٰ علیہ السلام پر اس کا زیادہ اثر ہو اوروہ زیادہ شفقت ونرمی کا برتاؤ کریں ورنہ وہ ہارون علیہ السلام کے سگے بھائی تھے ،دونوں ایک ہی ماں باپ کے بیٹے تھے ۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۳۸)
سوال: نیک لوگ مقصد تک پہنچنے کے لئے اپنی گفتگو میں بہتر سے بہتر الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ۔ آیت کے ذریعہ اس بات کو سمجھائیے.
إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ ٱلۡعِجۡلَ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٞ مِّن رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٞ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُفۡتَرِينَ ١٥٢
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بچھڑے کی پوجاکرنے پر یہ سزا دی کہ دنیا کی زندگی میں ان پر ذلت ورسوائی مسلط کردی اور انہیں عزت ووقارسے محروم کردیا۔پھر آگے اللہ کا یہ فرمان: (وكذلك نجزي المفترين) اور بہتان باندھنے والوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ یہ فرمان ہر اس شخص پر صادق آتا ہے جو دین میں اپنی طرف سے بدعت گڑھ لے۔ اس لئے کہ بدعت اور مخالفتِ ہدایت کی ذلت بدعتی کے دل سے دونوں کندھوں تک پہنچ جاتی ہے ۔جیسا کہ حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے: “بدعت کی ذلت ان کے کندھوں پرمسلط ہوجاتی ہے چاہے وہ بظاہر خچروں پر سوار دندناتے پھریں یا اعلیٰ قسم کے ترکی گھوڑے انہیں لے کر ٹاپ مارتے کیوں نہ پھریں۔
سفیان بن عُیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:“ہر بدعتی ذلیل ہے”۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۳۸)
سوال: دین میں بدعت ایجاد کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے؟
وَلَمَّا سَكَتَ عَن مُّوسَى ٱلۡغَضَبُ أَخَذَ ٱلۡأَلۡوَاحَۖ وَفِي نُسۡخَتِهَا هُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّلَّذِينَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُونَ ١٥٤
سہل بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “دنیا اور آخرت کے ہر خیر وبھلائی کی بنیاد اللہ کا ڈر اور خوف ہے ۔ اس بات پر اللہ کا یہ فرمان دلیل ہے : (ولما سكت عن موسى الغضب أخذ الألواح وفي نسختها هدى ورحمة للذين هم لربهم يرهبون)اور جب موسیٰ علیہ السلام کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا تو انہوں نے (تورات کی)تختیاں اٹھالیں ۔ ان کے مضامین میں ان لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت تھی جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ۔ (ابن تیمیہ: ۳؍ ۲۰۸)
سوال: دنیا اور آخرت کی ہر بھلائی کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا خوف ہے ۔آیت کی مددسے یہ بات بیان کیجئے.
أَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَّآۖ
یعنی: رب !کیا تو ہمیں اور تمام بنی اسرائیل کو اس گناہ کے بدلے میں ہلاک کردیگا جسے ہم میں سے کچھ بے وقوف اور نادان لوگوں نے کیا ہے ؟
یہ بے وقوف لوگ وہ تھے جنہوں نے یہ کہہ کر اللہ کے دیدار کا مطالبہ کیا تھا : (اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً) (سورۂ نساء: ۱۵۳) ہمیں روبرو،(ہمارے سامنے) اللہ کو دکھلادو۔اوربے وقوف لوگ وہ بھی تھے جنہو ں نے بچھڑے کی پوجا اور عبادت کی تھی ۔ غرض موسیٰ علیہ السلام کے اس بیان کا مقصد تھا اپنے لئے دلیل اور عذر بیان کرنا، بیوقوفوں کی غلط حرکت سے براء ت کا اظہار کرنا اور اللہ کی بارگاہ میں التجا کرنا اور عاجزی کے ساتھ مانگنا کہ وہ سزا کو عام کرکے اس میں سب کو نہ گھیر لے۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۳۱۸)
سوال: معاشرے کے لئے سب سے سنگین خطرہ“ بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے فریضہ کو چھوڑدینا” ہے۔آیت سے اسے واضح کیجئے.
إِنۡ هِيَ إِلَّا فِتۡنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَن تَشَآءُ وَتَهۡدِي مَن تَشَآءُۖ
یعنی : اے اللہ !یہ تیری جانب سے ہماری جانچ اور آزمائش ہے اور ویسی ہی ابتلا ء اور امتحان ہے جس طرح تو اپنے دوسرے بندوں کو اچھائیوں اور برائیوں کے ذریعہ آزماتا رہا ہے تاکہ وہ بندے جو مشکلات میں بھرپور صبر وضبط سے کام لیتے ہیں اور ہر حال میں حق پر پامردی سے جمے رہتے ہیں اور جونعمت وخوشحالی میں اللہ کا پوری طرح شکر بجالاتے ہیں ۔ان آزمائشوں سے ایسے صبر اور شکرمیں پکّے بندے دوسروں سے الگ ہوکر ظاہر ہوجائیں۔ اسی طرح اے اللہ ! تو اپنے رسولوں کو بھیج کر اور کتابوں کو نازل کرکے لوگوں کو آزماتا رہا ہے تاکہ مومن کافر سے ،سچا جھوٹے سے اور مخلص مومن، منافق سے جدا اور ممتاز ہوجائے ۔ اس طرح تو ان آزمائشوں کو کچھ لوگوں کی گمراہی کا سبب بنادیتا ہے اور دوسروں کی ہدایت کا ذریعہ بھی ۔ (ابن تیمیہ: ۳؍ ۲۰۸)
سوال:اچھائیوں اور برائیوں کے ذریعہ ابتلاء وآزمائش اور امتحان لینے کا مقصد کیا ہے؟