قرآن
ﮓ
ﱁ
ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ١٠٥ ١٠٥ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ١٠٦ ١٠٦ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ١٠٧ ١٠٧ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ١٠٨ ١٠٨ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ١٠٩ ١٠٩ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
١١٠ ١١٠ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ١١١ ١١١ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ١١٢ ١١٢ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ١١٣ ١١٣ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ١١٤ ١١٤ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ١١٥ ١١٥ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ١١٦ ١١٦
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
١١٧ ١١٧ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ١١٨ ١١٨ ﯿ
ﰀ ﰁ ﰂ ١١٩ ١١٩ ﰄ ﰅ ﰆ ١٢٠ ١٢٠
فَأَلۡقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعۡبَانٞ مُّبِينٞ ١٠٧ وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنَّٰظِرِينَ ١٠٨ قَالَ ٱلۡمَلَأُ مِن قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌ عَلِيمٞ ١٠٩
(فَأَلۡقَىٰ) تب موسیٰ نے ڈال دی۔ ( عَصَاهُ) اپنی لاٹھی زمین پر( فَإِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِينٌ) تو اچانک ایسا ہوا کہ ایک نمایاں اور واضح اژدھا ان کے سامنے تھا ۔ یعنی واضح سانپ جسے وہ اپنی آنکھوں سے دوڑتا ،سنسناتا دیکھ رہے تھے ۔
(وَنَزَعَ يَدَهُۥ ) اور اپنا ہاتھ نکالااپنے گریبان سے باہر۔ (فَإِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنَّٰظِرِينَ) تب اچانک ایسا ہوا کہ وہ دیکھنے والوں کے لئے سفید چمکیلا تھا ۔ یعنی ہاتھ کے چمکدار ہونے کی وجہ اس میں کوئی نقص اور خرابی ہونا نہیں تھا ،بیماری نہیں تھی۔
یہ یعنی عصا کا اژدھا بننا اور ہاتھ کا چمکدار ہونادو بڑی نشانیاں اور معجزے تھے جو موسیٰ علیہ السلام کی لائی ہوئی تعلیم اور پیغام کے صحیح ہونے اور ان کے سچے ہونے پر کھلی دلیل تھے اور اس بات کا پکا ثبوت تھے کہ موسیٰ علیہ السلام تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول اور پیغمبر ہیں لیکن جو لوگ ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس ہر نشانی اور ہر قسم کا معجزہ بھی آجائے تب بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔ (السعدی: ۲۹۹)
سوال:کیا ہدایت صرف سوجھ بوجھ سے حاصل ہوتی ہے۔ یا پھر یہ اللہ کی طرف سے احسان وانعام ہوتی ہے ؟ آیاتِ بالا کی مدد سے اس بات کو واضح کیجئے.
قَالُوٓاْ أَرۡجِهۡ وَأَخَاهُ وَأَرۡسِلۡ فِي ٱلۡمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ ١١١ يَأۡتُوكَ بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٖ ١١٢
صورتِ حال یہ معلوم ہوتی ہے کہ فرعون کے درباری سمجھدار اہلِ سیاست رہے ہوں گے۔اس لئے وہ (حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کی دعوت اور معجزہ دکھانے کے بعد۔) اچھی طرح سمجھ گئے کہ اس بات کی امید نہیں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی دعوت چھپی رہ جائے اور اگر فرعون انہیں قید کردیتا ہے یا کھلے طور پر مخالفت ودشمنی کرتا ہے تو لوگوں کے نزدیک یہ بات ثابت ہوجائیگی اور وہ یقین کرلیں گے کہ موسیٰ علیہ السلام کی حجت ودلیل غالب آگئی ۔ اوریہ چیز فرعون کے دین میں شک پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائیگی۔اس لئے انہیں یہی بہترلگا کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نرم رویہ اختیار کریں اورانہیں یہ امید بھی تھی کہ مصر کے جادوگروں میں کوئی ایسا-ماہر فن-مل جائے جو موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کورد کرسکے تاکہ یہ چیز لوگوں کے سامنے موسیٰ علیہ السلام کے خلاف حجت بن جائے ۔ (ابن عاشور: ۹؍۴۴)
سوال:فرعون کے درباریوں نے فرعون کو یہ تجویزاور رائے کیوں نہیں دی کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کو قید کردے؟
وَجَآءَ ٱلسَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ قَالُوٓاْ إِنَّ لَنَا لَأَجۡرًا إِن كُنَّا نَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبِينَ ١١٣
(قَالُوٓاْ ) ان جادوگروں نے فرعون سے پوچھا۔ (إِنَّ لَنَا لَأَجۡرًا) ہمیں کوئی صلہ بدلہ بھی ملے گا؟ یعنی: اجرت،معاوضہ اور مال وزر۔ (البغوی: ۲؍ ۱۳۵)
سوال:آیت نے یہ حقیقت کس طرح بیان کی ہے کہ گمراہی کی دعوت دینے والوں کی ایک اہم پہچان دنیا کی حرص اور چاہت ہے ؟
وَجَآءَ ٱلسَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ قَالُوٓاْ إِنَّ لَنَا لَأَجۡرًا إِن كُنَّا نَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبِينَ ١١٣ قَالَ نَعَمۡ وَإِنَّكُمۡ لَمِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ ١١٤
جب جادوگروں نے فرعون سے کہا:اگر ہم لوگ موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے تو کیا ہمیں اپنے اس کارنامے کا بدلہ اور انعام ملے گا؟ تو فرعون نے ان کے جواب میں کہا: ہاں،ہاں! تمہیں وہ تو ملے گا ہی ،اسی کے ساتھ تم پر یہ نوازش بھی ہوگی کہ تم ان لوگوں میں شامل ہوجاؤگے جنہیں میں اپنے قریب رکھتا ہوں اور اپنے نزدیک کا مقام عطاکرتاہوں ۔ (الطبری:۱۳؍۲۶)
سوال:آیت میں اشارہ ہے کہ سرکش لوگوں کی یہ خواہش اور رغبت ہوتی ہے کہ گمراہ کرنے والے سرغنوں کو قریب رکھیں اور ان سے رائے مشورے لیں ؟ اس بات کی وضاحت کیجئے.
قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلۡقِيَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ نَحۡنُ ٱلۡمُلۡقِينَ ١١٥ قَالَ أَلۡقُواْۖ
موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کومقابلے میں پہل کرنے کے لئے کہا۔اس بارے میں کہا گیا ہے کہ :اس کی حکمت یہ ہے کہ -واللہ اعلم-تاکہ سارے لوگ جادوگروں کاجادو دیکھ لیں اور غورکرکے اس کی حقیقت سمجھ لیں چنانچہ جادوگر جب اپنے باطل عمل اور مکر وفریب سے فارغ ہوجائیں تب لوگوں کی جستجواور بے چینی سے انتظار کرنے کے بعد بالکل واضح اورکھلا ہوا نمایاں حق ان کے سامنے آجائے ۔اس طرح یہ معاملہ لوگوں کے دلوں پراثر دارہوتا اور ایسا ہی ہوا۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۲۷)
سوال:موسیٰ علیہ السلام نے پہلے جادوگروں سے لاٹھیاں ڈالنے کے لئے کہا۔ اس میں کیامصلحت تھی؟
قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلۡقِيَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ نَحۡنُ ٱلۡمُلۡقِينَ ١١٥ قَالَ أَلۡقُواْۖ فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ سَحَرُوٓاْ أَعۡيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسۡتَرۡهَبُوهُمۡ وَجَآءُو بِسِحۡرٍ عَظِيمٖ ١١٦
جادوگر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ادب سے پیش آئے اور یہی چیز ان کے ایمان لانے کی وجہ بنی۔ (القرطبی: ۹؍۲۹۶)
سوال:آیت کو سامنے رکھتے ہوئے بتائیے کہ علماء وصالحین کے ساتھ ادب ولحاظ رکھنے کا کیا فائدہ ہے؟
وَأُلۡقِيَ ٱلسَّحَرَةُ سَٰجِدِينَ ١٢٠
(حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پیش کردہ معجزے کے سامنے جب فرعون کے شعبدہ بازوں کا باطل بے اثر اور سرنگوں ہوگیا اور حق جادوکے سرچڑھ گیا تو ) موسیٰ علیہ السلام کے حق کی عظمت جن لوگوں کو سب سے زیادہ کھل کر اور انتہائی واضح طور پر سمجھ میں آئی وہ اسی قبیل کے اور جادو سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے جو جادو کی مختلف قسموں کو اور اس کی باریکیوں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کواچھی طرح جانتے تھے جبکہ ان باتوں اور باریکیوں سے دوسرے لوگ ناواقف تھے ۔لہذا جادواور اس کی باریکیوں کو جاننے والے خوب سمجھ گئے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جو پیش کیا ہے وہ جادو نہیں، بلکہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی ہے جس پر کسی بھی انسان یامخلوق کا بس نہیں چل سکتا اور نہ کوئی اس کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ (السعدی: ۳۰۰)
سوال:جادوگروں اور موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں جادوگروں نے سب سے پہلے ایمان کیوں قبول کیا؟