قرآن
ﮓ
ﱀ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ
ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ٧٤ ٧٤ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ
ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ٧٥ ٧٥ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ٧٦ ٧٦ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ٧٧ ٧٧ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ٧٨ ٧٨ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ
٧٩ ٧٩ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ٨٠ ٨٠ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ٨١ ٨١
وَبَوَّأَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورٗا وَتَنۡحِتُونَ ٱلۡجِبَالَ بُيُوتٗاۖ فَٱذۡكُرُوٓاْ ءَالَآءَ ٱللَّهِ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ ٧٤
یعنی : فتنہ وفساد اور گناہوں کا ارتکاب کرکے زمین کوویران نہ بناؤ ،اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں آباد شہروں کو ویران کردیتی ہیں۔ اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ قومِ صالح علیہ السلام کی بستیاں ان سے خالی ہوگئیں، اور ان کے مکانات اس طرح ویران رہ گئے کہ ان پر سناٹا اور ہُو کا عالم چھاگیا،اور وہ سنسان کھنڈربن گئے۔(السعدی: ۲۹۵)
سوال: نافرمانیاں نعمتوں پر کیا اثر ڈالتی ہیں؟
قَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ لِلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِمَنۡ ءَامَنَ مِنۡهُمۡ أَتَعۡلَمُونَ أَنَّ صَٰلِحٗا مُّرۡسَلٞ مِّن رَّبِّهِۦۚ قَالُوٓاْ إِنَّا بِمَآ أُرۡسِلَ بِهِۦ مُؤۡمِنُونَ ٧٥
قوم کے گھمنڈی سرداروں نے حضرت صالح علیہ السلام سے بحث وتکرار کا رخ موڑدیا،اور جو لوگ ان پر ایمان لائے تھے ان کے ایمان کی مضبوطی کا امتحان لینے لگے۔نیز ان مومنوں کے دلوں میں شک وشبہ ڈالنے کی کوششیں کرنے لگیں۔ اور مومنوں سے ان کے خطاب اور بات چیت کا مقصد تھا کہ حضرت صالح علیہ السلام کے دعوتی کام کو خراب کردیا جائے ،اسے بے اثر بنادیا جائے ۔ ان کا یہ خطاب ایسا ہی تھاجیسے خود حضرت صالح علیہ السلام کے ساتھ بات چیت کررہے ہوں۔
اور یہاں آیت میں ان سرداروں کو جو (ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ) (جنہوں نے تکبر کیا) کی صفت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے تو اس کا مقصد ان کی اس برائی کو بتانا ہے کہ وہ اکڑ اور گھمنڈ میں مبتلا تھے ۔قوم کے عام لوگوں کے سامنے اپنی بڑائی جتاتے اور شیخی بگھارتے تھے، نیز انہیں حقیر وذلیل سمجھتے تھے ۔ ساتھ ہی (ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ) کے الفاظ یہ بات بھی بتاتے ہیں کہ جو لوگ حضرت صالح علیہ السلام کی دعوت وتعلیم پر ایمان لائے تھے ،وہ قوم کے کمزورلوگ تھے ۔ (ابن عاشور: ۸؍۲۲۲)
سوال: آیت بالا کو سامنے رکھ کر بتائیے کہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے لوگوں کو ان کی دعوت سے روکنے کے لئے کس انداز و اسالیب اپنائے ؟
قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُوٓاْ إِنَّا بِٱلَّذِيٓ ءَامَنتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ ٧٦
گھمنڈ اور تکبر نے انہیں اس بات پراکسایاکہ وہ اس حق کو نہ مانیں جسے قومِ صالح کے کمزور وناتواں لوگوں نے مان لیا تھا ۔ (السعدی: ۲۹۵)
سوال: آیت کو نگاہ میں رکھ کرتکبر کے نقصانات میں سے ایک نقصان بتائیے؟
فَعَقَرُواْ ٱلنَّاقَةَ وَعَتَوۡاْ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهِمۡ وَقَالُواْ يَٰصَٰلِحُ ٱئۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٧٧
(فَعَقَرُواْ ٱلنَّاقَةَ) چنانچہ انہوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں۔یعنی اسے ہلاک کردیا۔کاٹنے کے عمل کو قوم کے تمام لوگوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ سب نے کاٹا، اس لئے کہ وہ سب کے سب اس پر راضی تھے ۔ اگرچہ اس کام کو کرنے والا ان میں سے ایک ہی فرد تھا ۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۳۶۰)
سوال:اونٹنی کی ٹانگوں کو کاٹنے کا عمل پورے قبیلے کی طرف کیوں منسوب کیا گیا ہے، جبکہ کاٹنے والا ایک ہی شخص تھا ؟
فَتَوَلَّىٰ عَنۡهُمۡ وَقَالَ يَٰقَوۡمِ لَقَدۡ أَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ وَلَٰكِن لَّا تُحِبُّونَ ٱلنَّٰصِحِينَ ٧٩
حضرت صالح علیہ السلام کا یہ کہنا (لَّا تُحِبُّونَ ٱلنَّٰصِحِينَ) تم نصیحت وخیر خواہی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔
اس قول سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ قوم صالح کے افراد نے اپنی سوجھ بوجھ پر اپنی شہوتوں او ر خواہشوں کو غالب کررکھا تھا کیونکہ جس نفس کو نصیحت کی جارہی ہو اسے نصیحت کرنے والے کی بات بڑی گراں معلوم ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ وہ اس کے نفس کی خواہش وشہوت کے خلاف ہوتی ہے ۔ (ابن عطیہ: ۲؍ ۴۲۴)
سوال: اکثر لوگ ان لوگوں کو پسند کیوں نہیں کرتے جو ان کی بھلائی چاہتے اور انہیں نصیحت کرتے ہیں؟
وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ أَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٨٠
(أَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ) کیا تم بے حیائی کا کام کرتے ہو! یعنی: ایسی بری خصلت کا ارتکاب کرتے ہو جواس قدر بری ہے کہ اس کی سنگینی ،برائی، فحاشی،بدکاری اور بدکرداری کی تمام قسموں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔
(مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ) جو (برا کام)تم سے پہلے اہلِ عالَم میں سے کسی نے بھی نہیں کیا ۔
اب اس حرکت کا “فاحشہ” یعنی قباحت وبرائی والا ہونا پہلے ہی ایک قبیح ترین چیز تھی ۔پھر یہ بات کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے اس بدچلنی کو ایجادبھی کیا تھا ،اور اپنے بعد آنے والوں کے لئے اسے نمونہ بنادیا۔ یہ ایسی بات ہے جو اُن کے جرم کو برے سے برا بناتی ہے ۔ (السعدی: ۲۹۶)
سوال: نافرمانی کا گناہ کب دوچندہوتا ہے ؟ آیت کے دائرے میں بیان کیجئے.
إِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهۡوَةٗ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ مُّسۡرِفُونَ ٨١
یعنی:تم ایسے لوگ ہوجن میں شہوت وخواہش میں حد سے آگے نکل جانے کی عادت گھر کرچکی ہے۔غرض یہی وجہ تھی کہ جب وہ لوگ معمول کی جنسی لذت سے اکتا گئے ، تو نامانوس اورغیرفطری خواہش (یعنی اغلام بازی) یعنی مَردوں کے ساتھ غیر فطری جنسی عمل کے پیچھے پڑ گئے ۔ (ابن عاشور: ۸؍۲۳۲)
سوال:قوم لوط کو(قَوۡمٞ مُّسۡرِفُونَ) یعنی حد سے آگے بڑھنے والے لوگ کیوں کہا گیا؟