قرآن
ﮒ
ﰿ
ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ١٠٢ ١٠٢ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ١٠٣ ١٠٣ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ١٠٤ ١٠٤ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ١٠٥ ١٠٥ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
١٠٦ ١٠٦ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ١٠٧ ١٠٧ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
١٠٨ ١٠٨ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ
ﯽ ﯾ ١٠٩ ١٠٩ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ
ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ١١٠ ١١٠
ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖ فَٱعۡبُدُوهُۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٞ ١٠٢
(ٱللَّهُ رَبُّكُمۡۖ) ذکر کردہ صفات والا یہی اللہ تمہار ا پالنہارو رب ہے۔یعنی: وہی حقیقی معبود اور عبادت کے لائق ہے اور وہی بندوں کی جانب سے انتہائی عاجزی اور انتہائی محبت کا مستحق ہے ۔وہی تو وہ رب ہے جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعہ تمام مخلوق کو اپنے دامنِ ربوبیت میں پالا،ان کی ہر ضرورت کا انتظام فرمایا اور انہیں مختلف قسم کی مصیبتوں اور تکلیفوں سے بچائے رکھا۔ (السعدی: ۲۶۸)
سوال: کلمہ ‘‘رب’’ کے کیا معنی ہیں؟اور اس کے معنی پر کیا نتیجہ اور معنی مرتب ہوتاہے؟
وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٞ ١٠٢
تمام اشیاء پر اللہ تعالیٰ کی وکالت مخلوق کی آپسی وکالت کی طرح نہیں ہے کیونکہ مخلوق کی وکالت حقیقت میں نیابت اور نمائندگی ہے جس میں وکیل اپنے مؤکل کا تابع ہوتا ہے ۔ رہی باری تبارک وتعالیٰ کی ذات تواس کی وکالت خود اس کی ذات کی طرف سے ہوتی ہے اور خود اپنی ذات کے لئے ہی ہوتی ہے ۔اللہ کی وکالت کامل علم اور حسنِ تدبیر وانتظام پر مشتمل ہوتی ہے جس میں احسان بھی ہوتا ہے اور انصاف بھی ۔ لہذا کسی کے لئے ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ پر استدراک کرے یعنی اس کے کسی کام میں کمی اور خامی کی تلافی کرے ۔نہ وہ اللہ کی تخلیق میں کوئی خلل اور خرابی دیکھ سکتاہے اور نہ ہی اس کی تدبیرمیں کوئی نقص اور عیب پاسکتا ہے۔ (السعدی: ۲۶۸)
سوال: اشیاء پر اللہ کے وکیل ہونے اور انسانوں کے وکیل ہونے کے درمیان کیا فرق ہے؟
لَّا تُدۡرِكُهُ ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَهُوَ يُدۡرِكُ ٱلۡأَبۡصَٰرَۖ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلۡخَبِيرُ ١٠٣
آیت میں ‘‘اِدراک’’ کی نفی کی گئی ہے جس کا مطلب اِحاطہ کرنے کی نفی کرناہے جیسا کہ اکثر علماء نے کہا ہے ۔ محض دیدار کرنے کی نفی نہیں کی گئی ہے ۔ اس لئے کہ ناموجودچیزدکھائی نہیں دیتی اور اس کا دکھائی نہ دینااس کی تعریف نہیں ہے ۔ یعنی معدوم چیز کا ناقابلِ دید ہونا کوئی خوبی نہیں ہےکیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ہر ناموجود چیز قابل تعریف ہوتی۔خوبی اور تعریف کی بات تو یہ ہے کہ اس کا احاطہ اور گھیراؤ نہ کیا جاسکے خواہ اسے دیکھا جاسکتا ہوجیسا کہ اللہ کے بارے میں معلومات کا احاطہ نہیں کیا جاسکتااگرچہ اللہ کے بارے میں علم حاصل ہوتا ہے۔لہذا جس طرح یہ بات واضح ہے کہ اللہ کی ذات وصفات کا علم تو حاصل ہوسکتا ہے لیکن کسی کا علم اللہ کی ذات وصفات کو محیط نہیں ہوسکتا۔بالکل اسی طرح اللہ کا دیدار تو ہوسکتا ہے لیکن اس کے دیدار میں احاطہ نہیں ہوسکتا۔ (ابن تیمیہ: ۳؍ ۷۸۔۷۹)
سوال:آپ آیت سے کیسے ثابت کریں گے کہ قیامت کے دن اللہ کا دیدارثابت ہے اور آیت سے اس کی نفی نہیں ہوتی.
ٱتَّبِعۡ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١٠٦
یعنی: اپنے ذہن و خیال کومشرکین میں مشغول نہ رکھیں بلکہ اللہ کی عبادت میں مصروف رہیں۔ (القرطبی: ۸؍۴۹۰)
سوال: دنیا کی زندگی میں دل کو کس چیز میں مشغول رکھنا بہتر ہے.
وَلَا تَسُبُّواْ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَسُبُّواْ ٱللَّهَ عَدۡوَۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٖۗ
اللہ سبحانہ نے مومنوں کو مشرکین کے بتوں کو برابھلاکہنے سے منع کیا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ جب مومنین انہیں گالی دیں گے تو اس سے کفار بھڑک اٹھیں گے نیز کفر وانکار میں اور بڑھ جائیں گے ۔ (القرطبی: ۸؍۴۹۱)
سوال: اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو کافروں کے معبودوں اور بتوں کو گالی دینے سے کیوں روکا ہے؟
وَلَا تَسُبُّواْ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَسُبُّواْ ٱللَّهَ عَدۡوَۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٖۗ
اس آیت کریمہ میں اس شرعی قاعدہ کی دلیل ہے کہ :وسائل وذرائع کو انہی چیزوں سے جوڑکر دیکھا جائیگا جن چیزوں اور نتیجوں تک یہ پہنچاتے ہیں لہذا حرام چیزوں تک پہنچانے والے وسیلے حرام ہوں گے ۔ اگرچہ بذات خود یہ حلال ہی ہوں لیکن اگر اس سے شر وفساد پیداہوتے ہیں تو وہ حلال ذریعے بھی حرام ہوں گے۔ (السعدی: ۲۶۹)
سوال: علماء نے مذکورہ آیت سے ایک عظیم شرعی قاعدہ نکالا ہے ،وہ کیا ہے؟
وَلَا تَسُبُّواْ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَسُبُّواْ ٱللَّهَ عَدۡوَۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٖۗ
جب ایسا ہوکہ کافروں کو طاقت و قوت حاصل ہواوراندیشہ ہوکہ اسلام کوبدنام کیاجائے گا اور برابھلاکہاجائےگا یا نبی ﷺ کو اور اللہ عزوجل کو سب وشتم کریں گے تو کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ کافروں کے دین کو ،ان کی صلیبوں اور بتوں کو سب وشتم کا نشانہ بنائے اور نہ ہی ایسی کوئی بات کہے جس کے نتیجہ میں اس برائی کا دروازہ کھلے یا ایسی کسی حرکت کا راستہ بنے۔ (ابن عطیہ: ۲؍ ۳۳۲)
سوال:کس وقت مصلحت یہ تقاضا کرتی ہے کہ کافروں کے معبودوں کو برابھلا نہ کہا جائے؟