قرآن
ﮖ
ﱃ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ٨٠ ٨٠ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ٨١ ٨١ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
ﭼ ٨٢ ٨٢ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ٨٣ ٨٣ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ
ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ٨٤ ٨٤
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ
٨٥ ٨٥ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ٨٦ ٨٦ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ٨٧ ٨٧ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ٨٨ ٨٨
فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلۡقُواْ مَآ أَنتُم مُّلۡقُونَ ٨٠
موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کو اپنا کرتب دکھانے میں پہل کرنے کا حکم اس لئے دیاتاکہ اپنی دلیل کی مضبوطی اور قوت زیادہ بہتر طریقے سے واضح کرسکیں کیونکہ کسی چیز میں جب دوفریق کا مقابلہ ہو اور اس میں ایک فریق بازی لے جانے کے لئے مقابلے میں پہل کرے تو ضروری ہے کہ اپنے مد مقابل سے زیادہ طاقت اور صلاحیت والا ہو۔ خاص طور سے ایسے کاموں میں جن کابنیادی مقصد ہی لوگوں کو دھوکے میں ڈالنا اورمرعوب کرنا ہوتا ہے،اور جن کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ غلبہ چاہنے والا حاضرین کو متاثر کرنے اور ان کا دل جیتنے میں پہل کرے( مگر جب مدمقابل فریق ایسا جواب دے کہ پہلے فریق کا کرتب بھی ناکام ہوجائے تو یہ دوسرے فریق کی واضح جیت ہوتی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے یہی کیا کہ پہلے جادوگروں کو موقع دیا تاکہ سب کے سامنے ان کی پول کھل جائے۔) (ابن عاشور: ۱؍۲۵4)
سوال:موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کو اپنا کرتب دکھانے اور جادوبتانے میں پہل کرنے کا حکم کیوں دیا؟
فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئۡتُم بِهِ ٱلسِّحۡرُۖ إِنَّ ٱللَّهَ سَيُبۡطِلُهُۥٓ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ ٨١
اس میں کوئی شک نہیں کہ جادوگر فسادی اور بگاڑ پیدا کرنے والے ہوتے ہیں اس لئے کہ لوگوں کی عقل وسمجھ کو بہکانا اور گمراہ کرناان کا مقصدہوتا ہے،تاکہ انہیں اپنے قابو میں کرلیں اورانہیں چیزوں کے اسباب اور حقیقت سے لاعلم رکھیں۔نتیجہ میں وہ جادوگروں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر رہ جائیں اورانہیں اپنے آپ کو سدھارنے کاکوئی راستہ سجھائی نہ دے۔ رہے وہ جادوگر جن كا موسیٰ علیہ السلام نے سامنا کیا تھا تو ان کا فساد وبگاڑ والا ہونا بالکل واضح ہے۔ اس لئے کہ وہ حق کی دعوت اورسچے دین کو مٹانا چاہتے تھے۔ نیز وہ شرک اور گمراہیوں کو عام کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ (ابن عاشور: ۱۱؍۲۵۷)
سوال: جادوگر اپنے فسادوبگا ڑ میں مختلف درجے اور طبقے کے ہوتے ہیں۔اس کی وضاحت کیجئے.
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ ٨١
فساد اور شرارت کرنے والے ہر شخص کا معاملہ ایسا ہی ہوتا ہے جب وہ فتنے فساد کا کوئی کام کرتا ہے، یا سازش کا کوئی جال بنتا ہے تو جلد ہی اس کا یہ کام مٹ جاتا ہےاور اپنی چمک دمک کھو دیتاہے اگرچہ کچھ وقت کے لئے اس کا عمل لوگوں میں عام ہو جائے لیکن اس کا انجام تباہی وبربادی ہی ہے۔رہےوہ مصلحین جن کے کاموں کا مقصد اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہوتا ہے اور ان کے کام اور کاموں کے طریقے فائدہ پہنچانے والے ہوتے ہیں جن کو کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کے کاموں کو سنوارتا ہے،ان میں ہمیشہ برکت اور ترقی دیتا ہے۔( یعنی ان کے یہ اعمال ہمیشہ پھلتے پھولتے رہتے ہیں۔) (السعدی؍۳۷۱)
سوال: برے کاموں کا انجام اور اچھے کامو ں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟
فَمَآ ءَامَنَ لِمُوسَىٰٓ إِلَّا ذُرِّيَّةٞ مِّن قَوۡمِهِۦ
یعنی:بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لائے۔ اور موسیٰ علیہ السلام پر قوم کے صرف چند نوجوانوں کے ایما ن لانے کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے واللہ أعلم کہ:نئی نسل اور نوجوان حق کو قبول کرنے اور اسے تسلیم کرنے میں زیادہ تیز ہوتے ہیں برخلاف بوڑھوں اور بڑی عمرکےلوگوں کے جنہوں نے کفر کے ماحول میں پرورش پائی ہو تووہ دوسروں کے مقابلے میں حق سے زیادہ دورہوتے ہیں اور بدکتے ہیں۔اس وجہ سے کہ ان کے دلوں میں غلط اور فاسد عقیدے رچ بس جاتے ہیں ۔ (السعدی؍۳۷۱)
سوال: موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایمان لانے والے زیادہ تر نوجوان تھے۔اس کی کیا وجہ تھی؟
فَقَالُواْ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلۡنَا رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةٗ لِّلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ٨٥
یعنی: ان ظالموں کو ہمیں سزا دینے کی قدرت نہ دے، ورنہ کہیں گے کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو ہمارے ہاتھوں مار نہ کھاتے۔اس طرح لوگ فتنے میں پڑجائیں گے( یعنی اہل ِحق کی بری حالت اور ان پر مخالفین کادبدبہ دیکھ کر لوگ یہ سمجھ بیٹھیں گے کہ پیغمبر اور ان کے ساتھی حق پر نہیں ہیں)۔ (ابن جزی: ۱؍۳۸۶)
سوال: (اس آیت میں مذکور) دعا سے سے موسیٰ اور ان کی قوم کا کیا مقصد تھا؟
فَقَالُواْ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلۡنَا رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةٗ لِّلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ٨٥ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٨٦
آیت میں دعا سے پہلے اللہ پر بھروسے کا ذکر ہے۔ اس میں اس بات کا بیان ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ پر بھروسہ کرنے کا جو حکم دیا تھا انہوں نے اس کی تعمیل کی۔اور اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ اللہ سے دعا کرنے والے پر حق ہے کہ اس کی دعا کی بنیاداللہ کے بھروسہ پر ہو(یعنی جب دعا کرے تو اسے اللہ پر بھروسہ ہونا چاہئے) کیونکہ اس سے دعا کے قبول ہونے کی امید بڑھ جاتی ہے۔ساتھ ہی دعا کرنے والے کو اس وہم وخیال میں ہرگز نہیں پڑناچاہئے کہ توکل اور بھروسہ دعا کے خلاف ہے اس لئے کہ یہ تو مقصد پانے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ (الألوسی: ۱۱؍۲۲۶)
سوال: کیا اللہ تعالیٰ پر صحیح طریقے سے بھروسہ کرنا دعاکے خلاف ہے؟
فَلَا يُؤۡمِنُواْ حَتَّىٰ يَرَوُاْ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ ٨٨
موسیٰ علیہ السلام نے یہ بددعا فرعون اور اس کے سرداروں پر ناراض ہوکر غصہ سے کی۔ان کا یہ غصہ اللہ کے لئے اور اس کے دین کی خاطر تھا کیونکہ فرعون اور اس کے درباریوں کے بارے میں اب موسیٰ علیہ السلام کے سامنے بالکل واضح ہوگیا تھا کہ ان کے اندر کوئی خیر وبھلائی نہیں ہے اور ان سے کسی بھی اچھی بات کی امید نہیں ہے۔ ان کی یہ بددعا ایسی ہی ہے جیسے نوح علیہ السلام نے اپنی قوم پر ان الفاظ میں بددعا کی تھی: ( وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا۰۰۲۶اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا يَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا۰۰۲۷) (سورۂ نوح: ۲۶-۲۷) میرے رب! زمین میں کافروں کا کوئی گھر باقی نہ چھوڑ۔بیشک اگر تو نے انہیں رہتا بستا چھوڑدیا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان سے جو اولاد ہوگی وہ بھی بدکردار اور سخت کافر ہی ہوگی’’۔ (ابن کثیر: ۲؍۴۱۱)
سوال: فرعون اور اس کی قوم کے خلاف موسیٰ علیہ السلام کے بددعا کرنے کی کیا وجہ تھی؟